تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 7
دوسری غرض بیت اللہ کی تعمیر سے یہ ہے کہ ہم اپنے اس گھر کو بیت اللہ کو ) مُبَارَكَاً بنانا چاہتے ہیں اور ماہو گا اُس مقام کو کہتے ہیں جو نشیب میں ہو اور اگر بارش ہو تو چاروں طرف کا پانی وہاں اگر جمع ہو جائے۔چونکہ یہاں بارش کے متنوع ر اللہ تعالی بات نہیں کر رہا ، بلکہ انسان کی دینی اور دنیوی ترقیات اور بہبود کے متعلق بات ہو رہی ہے اس لیے یہاں مبارگا کے سنے دو ہیں۔ایک یہ تمام اقوام عالم کے نمائند سے اس گھر مں جمع ہوتے رہیں گے اور دوسرے یہ کہ ہم نے بیت اللہ کو اس لیے تعمیر کروایا اوراسے معمر رکھنے آباد رکھنے کا فیصلہ کیا ہے کہ یہاں ایک ایسی شریعیت قائم کی جائے گی، یہاں ایک ایسا آخری شریعت و الا نبی مبعوث کیا جائے گا کہ جس کی شریعیت میں تمام ہدایتیں اور روحانی صداقتیں جو مختلف اقوام کی شریعتوں میں تفرق طور پ پائی جاتی تھیں پھر کٹی کر دی جائیں گی ور کوئی ایسی صداقت نہ ہوگی جو اس تربیت سے باہر گئی ہو۔پس فرمایا کہ روحانی لحاظ سے ہم اس بیت اللہ کو مبار کا بنانا چاہتے ہیں اور ہماری یہ عرض ہے کہ یہ تولد ہوگا ایک ایسی شریعت کا کہ تمام نبیاء کی شریعتوں میں جو باتیں متفرق طور پر پائی جاتی ہوں گی، وہ اس میں کٹھی کر دی جائیں گی اور اس کے ساتھ برکت بھی ہوگی یعنی وہ تمام چیزیں جو پہلوں کے لیے ضروری نہیں تھیں اور وہ انھیں برداشت نہیں کرسکتے تھے وہ صداقتیں بھی اس میں بیان ہوں گی اور ایک کامل اور مکمل شریعت ہوگی جو تمام اقوام کے فائدہ کے لیے قائم کی جائے گی اور یہ گھر جو ہے اور یہ بیت اللہ ، اس کامل اور کمل اور ابدی شرعیت کے لیے اُم القریٰ ٹھہرے گا۔تیری غرض بیت اللہ کے قیام کی ٹھند می بلعلمین میں بیان کی گئی ہے۔آپ اس بات کو مد نظر رکھیں کہ ان آیات کے شروع میں بیان کیا گیا تھا وضع للناس کہ تمام دنیا، تمام اقوام اور تمام زمانوں کے لیے ہم اس گھر کو بنارہے ہیں تمام اقوام کے ساتھ اس کا جو تعلق ہے اس کو اللہ تعالی نے ان آیات میں بار بار و بلایا ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میری غرض اس گھر کی تعمیر سے یہ ہے کہ ھندی تعلمین تمام جہانوں کے لیے ہدایت کا موجب یہ بنے۔لفظ ھدگی کے معنوں میں بھی عالمین کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کیونکہ عقل اور فراست اور علم اور معارف جو مشترک طور پر سارے انسانوں کا حصہ ہیں ان کو ہدایت کہتے ہیں۔اس کے بغیر آگے روحانی علوم چل ہی نہیں سکتے، کیونکہ ہی میں مثلاً عقل نہ ہو وہ پاگل ہوگا