حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 8
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کا پہلوان ہے جو نبیوں کے لباس میں ہے۔آپ فرماتے ہیں: میں کبھی آدم کبھی موسی کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار آنحضرت سائی یا یتیم کی کامل غلامی ، کامل پیروی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت کے عہدہ سے سرفراز فرمایا۔آپ آنحضرت صلی علی ایم کے مطبع نبی تھے۔آنحضرت صلی سیستم کی غلامی پر آپ کو فخر اور ناز تھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو آنحضرت صلی کا یہ سلم کے تابع نبی کے طور پر مبعوث کیا تا کہ آپ کے ذریعہ آخری زمانہ میں تنزیل پذیر ہور ہے اسلام کا احیاء ہو سکے۔چنانچہ آپ نے دین اسلام کی خدمت ایسے شاندار رنگ میں کی کہ جس کی نظیر گذشتہ چودہ سوسال میں نہیں ملتی۔جب آپ مامور ہوئے اُس وقت ظلمت وتار یکی اپنی انتہا پرتھی۔آپ نے ایک نہایت نیک اور پاک جماعت کی بنیاد رکھی۔یہ نیک اور پاک جماعت آہستہ آہستہ بڑھ کر اب دُنیا کے 207 ملکوں میں پھیل گئی ہے جو اپنی نیکی ، تقوی ، قربانیوں اور اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی وجہ سے مسلمانوں کے دوسرے تمام فرقوں سے ممتاز ہے۔26 رمئی 1908ء کو آپ علیہ السلام کی وفات ہوئی۔آپ کی وفات کے بعد جماعت احمدیہ میں خلافت کا سلسلہ شروع ہوا۔یہ خلافت کا سلسلہ بھی آنحضرت صلی ایم کی پیشگوئی کے عین مطابق قائم ہوا۔آپ کے خلفاء کے نام اس طرح ہیں :۔1) حضرت مولانا حکیم نورالدین خلیفہ البیع الاول رضی اللہ عنہ۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ السیح الثانی رضی اللہ عنہ۔(2 8