حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 7 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 7

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات تعارف سید نا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کی پیدائش قادیان دارالامان میں 13 فروری 1835 ء بروز جمعۃ المبارک بوقت نماز فجر ہوئی۔آنحضرت سلیا ایلم کی پیشگوئیوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس زمانے کا امام ، بیج اور مہدی بنا کر مبعوث فرمایا۔یہاں پر یہ بتانا ضروری ہے کہ جماعت احمدیہ کے عقیدہ کے مطابق مسیح و مہدی دو الگ الگ وجود نہیں ہیں جیسا کہ ہمارے غیر احمدی بھائیوں کا عقیدہ ہے بلکہ ایک ہی وجود کو اللہ تعالیٰ نے دو حیثیتوں کی وجہ سے دو نام عطا فرمائے ہیں۔جیسا کہ آنحضرت سالیا یہ ہم نے فرمایا: لَا الْمَهْدِيُّ إِلَّا عِیسٰی کہ عیسی اور مہدی ایک ہی وجود ہے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے مسیح، کا نام اس لئے دیا کہ آپ نے عیسائیوں سے خاص طور پر مقابلہ کرنا تھا اور اُن کے عقائد کی غلطی اُن پر ثابت کرنی تھی۔اور مہدی کا مطلب ہے اللہ سے ہدایت پایا ہوا۔مہدی کا نام اس لئے دیا کہ آپ نے اللہ تعالیٰ سے ھدایت پا کر بنی نوع انسان کو ھدایت دینی تھی۔آپ علیہ السلام اللہ کے نبی تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبی کے لقب وخطاب سے نوازا۔نہ صرف آپ کو نبی کے عظیم الشان روحانی مرتبہ سے سرفراز فرمایا بلکہ بعض نبیوں کے نام آپ کو عطا فرمائے اس لئے کہ ان کی صفات آپ میں موجود تھیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاماً فرمایا : جَرِى اللهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ 7