حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 15
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات الصَّلوةَ لِذِ گرمی یعنی مجھے یاد کرنے کے لئے نماز قائم کر۔پس نماز کو ہر حال میں مقدم کرنا یہ آپ کے تعلق باللہ کی ایک بڑی علامت ہے۔اس ضمن میں دو واقعات پیش ہیں :۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی زندگی میں مختلف موقعوں پر مقدمات کی پیروی میں عدالت میں حاضر ہوتے رہے لہذا ذیل کے دو واقعات ایسے ہی موقعوں کے ہیں۔مورخ احمدیت مولا نا دوست محمد شاہد صاحب مرحوم و مغفور لکھتے ہیں : مقدمات خواہ کتنے پیچیدہ ، اہم اور آپ کی ذات یا خاندان کے لئے دور رس نتائج کے حامل ہوتے آپ نماز کی ادائیگی کو ہر صورت میں مقدم رکھتے تھے۔چنانچہ آپ کا ریکارڈ ہے کہ آپ نے ان مقدمات کے دوران میں کبھی کوئی نماز قضاء نہیں ہونے دی۔عین کچہری میں نماز کا وقت آتا تو اس کمال محویت اور ذوق شوق سے مصروف نماز ہو جاتے کہ گویا آپ صرف نماز پڑھنے کے لئے آئے ہیں کوئی اور کام آپ کے مد نظر نہیں ہے۔بسا اوقات ایسا ہوتا کہ آپ خدا تعالیٰ کے حضور کھڑے عجز و نیاز کر رہے ہوتے اور مقدمہ میں طلبی ہو جاتی مگر آپ کے استغراق توکل علی اللہ اور حضور قلب کا یہ عالم تھا کہ جب تک مولائے حقیقی کے آستانہ پر جی بھر کر الحاح وزاری نہ کر لیتے اس کے دربار سے واپسی کا خیال تک نہ لاتے۔چنانچہ خود فرماتے ہیں: میں بٹالہ ایک مقدمہ کی پیروی کے لئے گیا۔نماز کا وقت ہو گیا اور میں نماز پڑھنے لگا۔چپڑاسی نے آواز دی مگر میں نماز میں تھا فریق ثانی پیش ہو گیا اور اس نے یک طرفہ کارروائی سے فائدہ اُٹھانا چاہا اور بہت زور اس بات پر دیا۔مگر عدالت نے پروانہ کی اور مقدمہ اس کے خلاف کر دیا اور مجھے ڈگری دے دی۔میں جب نماز سے فارغ ہو کر گیا تو مجھے خیال تھا کہ شاید حاکم نے 15