حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 14 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 14

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات مطالعہ میں غرق رہتے۔زیادہ تر وقت مسجد میں گزارنے کے باعث لوگوں میں مسیترہ “ مشہور تھے۔انتہائی کم عمر میں نماز سے عشق و محبت کا ایک واقعہ جو دراصل آپ کے عشق الہی اور تعلق باللہ پر دلالت کرتا ہے اس طرح ہے: حضرت اقدس کو شروع سے نماز کے ساتھ گہرا تعلق اور ایک فطری لگاؤ تھا جو عمر کے آخر تک گویا ایک نشہ کی صورت میں آپ کے دل و دماغ پر طاری رہا۔جماعت احمدیہ کے پہلے مورخ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے آپ کے ابتدائی سوانح میں یہ عجیب واقعہ درج کیا ہے کہ جب آپ کی عمر نہایت چھوٹی تھی تو اس وقت آپ اپنی ہم سن لڑکی سے ( جو بعد میں کو آپ سے بیاہی گئی ) فرمایا کرتے تھے کہ نامرادے دعا کر کہ خدا میرے نماز نصیب کرے۔یہ فقرہ بظاہر نہایت مختصر ہے مگر اس سے عشق الہی کی ان لہروں کا پتہ چلتا ہے جو مافوق العادت رنگ میں شروع سے آپ کے وجود پر نازل ہو رہی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے اپنے انہی فطری رجحانات کا نقشہ کھینچتے ہوئے ایک مقام پر لکھا ہے کہ : الْمَسْجِدُ مَكَانِي وَالصَّالِحُونَ اِخْوَانِي وَذِكْرُ اللهِ مَالِي وَ خَلْقُ اللهِ عَيَالِي فرماتے ہیں کہ اوائل ہی سے مسجد میر امکان، صالحین میرے بھائی ، یاد الہی میری دولت ہے اور مخلوق خدا میرا عیال اور خاندان ہے۔تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ 53) مشکل سے مشکل حالات میں بھی نماز کو کبھی ضائع نہیں ہونے دیتے بلکہ بروقت نماز کی ادائیگی فرماتے۔نماز دراصل اللہ کو یاد کرنا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آتقیم 14