حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 88 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 88

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات اور تلاش سوال بن کر آپ کے دل و دماغ پر چھا گئی کہ اگر اللہ کی ہستی ہے اور یقینا ہے تو اس کا ثبوت آپکی ذات میں ملنا چاہئے چنانچہ آپ دن رات دُعاؤں میں لگ گئے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی دُعاؤں کو شرف قبولیت بخشا اور خواب کے ذریعہ اپنی ہستی کا ثبوت دیا۔آپ فرماتے ہیں : یہ میری زندگی کا سخت ترین دن تھا۔ایک کرب اور اضطراب کی کیفیت تھی جو اندر ہی اندر کھائے جارہی تھی۔ایک غیر مرئی اور غیر محسوس قوت پر ایمان لانا اور اس پر اپنی ساری زندگی کی نظری اور فکری عمارت تعمیر کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔یہ ایک چیلنج تھا جو در پیش تھا۔جس نے مجھے شدید خلجان میں مبتلا کر دیا ایک عجیب اذیت ناک کیفیت تھی جس سے میں دو چار تھا۔مجھے یقین تھا کہ اصولاً تو خدا کا وجود لازمی ہے۔لیکن کیا حقیقتاً بھی وہ موجود ہے؟ اور اگر ہے تو کیا مجھے وہ اپنا چہرہ دکھائے گا؟“ کبھی وہ مسجد میں جا کر گھنٹوں عبادت میں مشغول رہتے اور کبھی اپنے کمرے ہی میں ساری ساری رات عبادت میں گزار دیتے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔میں خدا کے حضور دعا کرتا اور کہتا کہ ”اے خدا! اگر تو موجود ہے تو مجھے تیری تلاش ہے۔تو مجھے بتا کہ تو ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بھٹک جاؤں۔کیا مجھ پر اس گمراہی کی ذمہ داری تو نہیں ہوگی ؟ اور پھر سوچتا کہ شاید ہو بھی۔پھر میں دعا کرتا کہ اے خدا یہ ذمہ داری مجھ پر تو عائد نہیں ہونی چاہئے۔“ کتاب ”ایک مرد خدا کے مصنف آئن ایڈم سن تحریر فرماتے ہیں: پھر ایک سہ پہر وہ ایک ایسے روحانی تجربے سے گذرے جس کی وجہ سے ہستی باری تعالی سے متعلق سوال ان پر ہمیشہ کے لئے حل ہو گیا۔وہ خود کہتے ہیں کہ اگر اس تجربے کو 88