حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 89 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 89

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات معروضی انداز سے جانچا جائے تو اسے ہستی باری تعالیٰ کا بہت زبر دست اور طاقتور ثبوت تو نہیں کہا جا سکتا لیکن انہیں یقین ہے کہ یہ جواب تھا اس دعا کا جو انہوں نے کی تھی فرماتے ہیں۔یہ خواب اور بیداری کے درمیان ایک قسم کی نیم غنودگی کی سی کیفیت تھی۔میں نے دیکھا کہ ساری زمین سکڑ کر ایک گیند کی شکل اختیار کر گئی ہے۔جس پر دور دور تک کسی جاندار مخلوق کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔نہ زندگی کی چہل پہل ہے نہ ہی شہر ہیں نہ آبادیاں۔غرضیکہ کچھ بھی تو نہیں۔پس زمین ہی زمین ہے کیا دیکھتا ہوں کہ اچانک زمین کا ذرہ ذرہ کانپنے لگا ہے اور ایک زناٹے سے پکار پکار کر کہہ رہا ہے ہمارا خدا! ہمارا خدا! ایک ایک ذرہ اپنے وجود کی علت غائی کا بآواز بلند اعلان کر رہا تھا۔ساری کائنات ایک عجیب قسم کی روشنی سے بھر گئی ایک ایک ذرے اور ایک ایک ایٹم نے ایک سر اور تال کے ساتھ پھیلنا اور سکٹر نا شروع کیا میں نے محسوس کیا کہ ان کے ہمراہ میں بھی یہ الفاظ دوہرا رہا ہوں اور کہہ رہا ہوں ”ہمارا خدا۔ہمارا خدا کتاب کے مصنف تحریر کرتے ہیں کہ اب وہ مکمل بیداری کی حالت میں واپس آچکے تھے لیکن اس نظارے کو بدستور دیکھ رہے تھے اس کے بعد ان کے تمام شکوک ہمیشہ کے لئے رفع ہو گئے۔الہام الہی اور تعلق باللہ ایک مرد خدا صفحہ 81 تا 83) جب بذریعہ خواب اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت آپ کو مل گیا۔اور اس کے بعد آپ کی دعائیں بھی پے در پے قبولیت کا درجہ پانے لگیں۔تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے الہام و کلام 89