حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 907 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 907

907 غرض اخلاقی خوبصورتی ایک ایسی خوبصورتی ہے جس کو حقیقی خوبصورتی کہنا چاہیئے بہت تھوڑے ہیں جو اس کو پہچانتے ہیں۔اخلاق نیکیوں کی کلید ہے۔جیسے باغ کے دروازے پر قفل ہو دور سے پھل پھول نظر آتے ہیں مگر اندر نہیں جاسکتے لیکن اگر قفل کھول دیا جاوے تو اندر جا کر پوری حقیقت معلوم ہوتی ہے اور دل و دماغ میں ایک سرور اور تازگی آتی ہے۔اخلاق کا حاصل کرنا گویا اس قفل کو کھول کے اندر داخل ہوتا ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 355-354) برے اخلاق وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْاَلْقَابِ۔(الحجرات : 12) ایک قوم دوسری قوم سے ٹھٹھا نہ کرے ہو سکتا ہے کہ جن سے ٹھٹھا کیا گیا ہے وہی اچھے ہوں بعض عورتیں بعض عورتوں سے ٹھٹھا نہ کریں ہوسکتا ہے کہ جن سے ٹھٹھا کیا گیا ہے وہی اچھی ہوں اور عیب مت لگاؤ۔اپنے لوگوں کے برے برے نام مت رکھو۔بدگمانی کی باتیں مت کرو اور نہ عیبوں کو کرید کرید کر پوچھو۔ایک دوسرے کا گلہ مت کرو۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔۔۔خ۔جلد 10 صفحہ 350) تم ایک دوسرے کا چڑ کے نام نہ لویہ فعل فساق و فجار کا ہے۔جو شخص کسی کو چڑاتا ہے وہ نہ مرے گا جیتک وہ خود اس طرح مبتلا ہوگا۔اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو جب کل ایک ہی چشمہ سے پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 23) تم دیکھ کر بھی بد کو بچو بدگمان سے ڈرتے رہو عقاب خدائے جہان سے شاید تمہاری آنکھ ہی کر جائے کچھ خطا شاید وہ بد نہ ہو جو تمہیں ہے وہ بدنما شاید تمہاری فہم کا ہی کچھ قصور ہو! شاید وہ آزمائش رب غفور ہو در مشین اردو صفحه 104 ) ( براہین احمدیہ - رخ - جلد 21 صفحہ 19-18 ) قُلُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ انَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحًا وَ لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًا۔(الكهف: 111) وہ قرآن شریف میں اس تعلیم کو پیش کرتا ہے جس کے ذریعہ سے اور جس پر عمل کرنے سے اسی دنیا میں دیدار الہی میسر آ سکتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا إِلَهُكُمُ إِلَةٌ وَّاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحًا وَّ لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّةٍ أَحَدًا۔یعنی جو شخص چاہتا ہے کہ اسی دنیا میں اس خدا کا دیدار نصیب ہو جائے جو حقیقی خدا اور پیدا کنندہ ہے پس چاہیئے کہ وہ ایسے نیک عمل کرے جس میں کسی قسم کا فساد نہ ہو یعنی عمل اس کے نہ لوگوں کے دکھلانے کے لئے ہوں نہ ان کی وجہ سے دل میں تکبر پیدا ہو کہ میں ایسا ہوں اور ایسا ہوں۔اور نہ وہ عمل ناقص اور نا تمام ہوں اور نہ ان میں کوئی ایسی بد بو ہو جو محبت ذاتی کے برخلاف ہو بلکہ چاہیئے کہ صدق اور وفاداری سے بھرے ہوئے ہوں اور ساتھ اس کے یہ بھی چاہیئے کہ ہر ایک قسم کے