حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 906
906 اخلاق کی تعریف إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ۔(القلم : 5) خلق بفتح خا سے مراد وہ صورت ظاہری ہے جو انسان کو حضرت واہب الصور کی طرف سے عطا ہوئی جس صورت کے ساتھ وہ دوسرے حیوانات کی صورتوں سے ممیز ہے۔اور خلق بضم خا سے مراد وہ صورت باطنی یعنی خواص اندرونی ہیں جن کی رو سے حقیقت انسانیہ حقیقت حیوانیہ سے امتیاز کھلی رکھتی ہے۔پس جس قدر انسان میں من حیث الانسانیت اندرونی خواص پائے جاتے ہیں اور شجرہ انسانیت کو نچوڑ کر نکل سکتے ہیں جو کہ انسان اور حیوان میں من حیث الباطن ما بہ الامتیاز ہیں ان سب کا نام خلق ہے۔اور چونکہ شجرہ فطرت انسانی اصل میں تو سط اور اعتدال پر واقع ہے اور ہر ایک افراط و تفریط سے جو قوی حیوانیہ میں پایا جاتا ہے منزہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ۔(التين:5) اس لئے خلق کے لفظ سے جو کسی مزمت کی قید کے بغیر بولا جائے ہمیشہ اخلاق فاضلہ مراد ہوتے ہیں اور وہ اخلاق فاضلہ جو حقیقت انسانیہ ہے۔تمام وہ خواص اندرونی ہیں جو نفس ناطقہ انسان میں پائے جاتے ہیں جیسے عقل ذکا۔سرعت فہم۔صفائی ذہن۔حسن تحفظ۔حسن تذکر۔عفت - حیا۔صبر - قناعت۔زہد۔۔تو رع۔جوانمردی۔استقلال۔عدل۔امانت۔صدق لہجہ۔سخاوت فی محلہ - ایثار فی محلہ - کرم فی محلہ - مروت فی محلہ۔شجاعت فی محلہ۔علو ہمت فی محلہ۔حلم في محلہ۔تحمل فی محلہ۔حمیت فی محلہ۔تواضع في محلہ۔ادب في محلہ - شفقت فی محلم - رافت فی محلہ۔رحمت فی محلہ۔خوف الہی محبت الہیہ۔انس باللہ۔انقطاع الی اللہ وغیرہ وغیرہ۔(براہین احمدیہ۔ر - خ - جلد 1 صفحہ 195-194 حاشیہ) اخلاق نیکیوں کی ماں ہے اخلاق کی درستی بہت ضروری چیز ہے کیونکہ نیکیوں کی ماں اخلاق ہی ہے۔خیر کا پہلا درجہ جہاں سے انسان قوت پاتا ہے اخلاق ہے۔دو لفظ ہیں ایک خلق اور دوسرا خلق۔خلق ظاہری پیدائش کا نام ہے اور خُلق باطنی پیدائش کا جیسے ظاہر میں کوئی خوبصورت ہوتا ہے اور کوئی بہت ہی بدصورت۔اسی طرح پر کوئی اندرونی پیدائش میں نہایت حسین اور دل رہا ہوتا ہے اور کوئی اندر سے مجذوم اور مبروص کی طرح مکروہ لیکن ظاہری صورت چونکہ نظر آتی ہے اس لئے ہر شخص دیکھتے ہی پہچان لیتا ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے اور نہیں چاہتا کہ بدصورت اور بد وضع ہومگر چونکہ اس کو دیکھتا ہے اس لئے اس کو پسند کرتا ہے اور خلق کو چونکہ دیکھا نہیں اس لئے اس کی خوبی سے نا آشنا ہو کر اس کو نہیں چاہتا۔ایک اندھے کے لئے خوب صورتی اور بدصورتی دونوں ایک ہی ہیں۔اسی طرح پر وہ انسان جس کی نظر اندرونہ تک نہیں پہنچتی اس اندھے کی ہی مانند ہے۔خلق تو ایک بدیہی بات ہے مگر خلق ایک نظری مسئلہ ہے اگر اخلاقی بدیاں اور ان کی لعنت معلوم ہو تو حقیقت کھلے۔