حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 908 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 908

908 شرک سے پر ہیز ہو۔لیکچر لاہور۔ر۔خ۔جلد 20 صفحہ 154) فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوهَا۔(الشمس: 9) یعنی بر یک انسان کو ایک قسم کا خدا نے الہام عطا کر رکھا ہے جس کو نور قلب کہتے ہیں اور وہ یہ کہ نیک اور بد کام میں فرق کر لینا۔جیسے کوئی چور یا خونی چوری یا خون کرتا ہے تو خدا اس کے دل میں اسی وقت ڈال دیتا ہے کہ تو نے یہ کام برا کیا اچھا نہیں کیا لیکن وہ ایسے القاء کی کچھ پرواہ نہیں رکھتا کیونکہ اس کا نور قلب نہایت ضعیف ہوتا ہے اور عقل بھی ضعیف اور قوت بہیمیہ غالب اور نفس طالب۔( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 186 حاشیہ ) اخلاق فاضلہ کی تکمیل قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔۔الاخر۔(سورة الناس) اس میں اللہ تعالیٰ نے حقیقی مستحق حمد کے ساتھ عارضی مستحق حمد کا بھی اشارۃ ذکر فرمایا ہے اور یہ اس لئے ہے کہ اخلاق فاضلہ کی تکمیل ہو چنانچہ اس سورت میں تین قسم کے حق بیان فرمائے ہیں۔اول فرمایا کہ تم پناہ مانگو اللہ کے پاس جو جامع جمیع صفات کاملہ ہے اور جو رب ہے لوگوں کا۔اور مالک بھی ہے اور معبود ومطلوب حقیقی بھی ہے۔یہ سورت اس قسم کی ہے کہ اس میں اصل تو حید کو تو قائم رکھا ہے مگر معا یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ دوسرے لوگوں کے حقوق بھی ضائع نہ کریں جوان اسماء کے مظہر ظلی طور پر ہیں۔رب کے لفظ میں اشارہ ہے کہ مو حقیقی طور پر خدا ہی پرورش کرنے والا اور تکمیل تک پہنچانے والا ہے لیکن عارضی اور ظلی طور پر دو اور بھی وجود ہیں جور بوبیت کے مظہر ہیں ایک جسمانی طور پر دوسرا روحانی طور پر۔جسمانی طور پر والدین ہیں اور روحانی طور پر مرشد اور ہادی ہیں۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 315-314) حقیقی اخلاق إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَ إِيْتَايُّ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنْكَر وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ۔(النحل: 91) اللہ تعالیٰ حکم کرتا ہے کہ تم عدل کرو اور عدل سے بڑھ کر یہ ہے کہ باوجود رعایت عدل کے احسان کرو اور احسان سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم ایسے طور سے لوگوں سے مروت کرو کہ جیسے کہ گویا وہ تمہارے پیارے اور ذوالقربی ہیں۔اب سوچنا چاہیئے کہ مراتب تین ہی ہیں۔اول انسان عدل کرتا ہے یعنی حق کے مقابل حق کی درخواست کرتا ہے پھر اگر اس سے بڑھے تو مرتبہ احسان ہے اور اگر اس سے بڑھے تو احسان کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے اور ایسی محبت سے لوگوں کی ہمدردی کرتا ہے جیسے ماں اپنے بچہ کی ہمدردی کرتی ہے یعنی ایک طبعی جوش سے نہ کہ احسان کے ارادہ سے۔جنگ مقدس - ر- خ - جلد 6 صفحہ 127)