حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 830 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 830

830 وحی والہام کی خواہش کرنا درست نہیں ہے انسان کو کشوف اور وحی اور الہام کا بھی طالب نہ ہونا چاہیئے بلکہ یہ سب تقویٰ کا نتیجہ ہیں۔جب جڑ ٹھیک ہوگی تو اس کے لوازم بھی خود بخود آجائیں گے۔دیکھو جب سورج نکلتا ہے تو دھوپ اور گرمی جو اس کا خاصہ ہیں خود بخود ہی آجاتے ہیں۔اسی طرح جب انسان میں تقویٰ آجاتا ہے تو اس کے لوازم بھی اس میں ضرور آ جاتے ہیں۔دیکھو جب کوئی دوست کسی کے ملنے کے واسطے جاوے تو اس کو یہ امید تو نہ رکھنی چاہیئے کہ میں اس کے پاس جاتا ہوں کہ وہ مجھے پلاؤ زردے اور قورمے اور قلیے کھلائے گا اور میری خاطر تواضع کریگا نہیں بلکہ صادق دوست کی ملاقات کی خواہش ہوتی ہے بجز اس کے اور کسی کھانے یا مکان یا خدمت کی پروا اور خیال بھی نہیں ہوتا مگر جب وہ اپنے صادق دوست کے پاس جو اس سے مجبور تھا۔جاتا ہے تو کیا وہ اس کی خاطر داری کا کوئی دقیقہ باقی بھی اٹھا رکھتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ جہانتک اس سے بن پڑتا ہے وہ اپنی طاقت سے بڑھ کر بھی اس کی تواضع کے واسطے مکلف سامان کرتا ہے۔ابتدائی الہام پر تسلی نہیں چاہئے ( ملفوظات جلد سوم صفحه 102) وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعُنْهُ بِهَا وَ لَكِنَّهُ اَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوَيهُ (الاعراف : 177) ابتدائی رؤیا یا الہام کے ذریعہ سے خدا بندہ کو بلانا چاہتا ہے مگر وہ اس کے واسطے کوئی حالت قابل تشفی نہیں ہوتی چنانچہ بلعم کو الہامات ہوتے تھے مگر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے کہ لَوْ شِـنـنَـا لَرَفَعُنه ثابت ہوتا ہے کہ اس کا رفع نہیں ہوا تھا یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور میں وہ کوئی برگزیدہ اور پسندیدہ بندہ ابھی تک نہیں بنا تھا۔یہاں تک کہ وہ گر گیا۔ان الہامات وغیرہ سے انسان کچھ بن نہیں سکتا۔انسان خدا کا بن نہیں سکتا جب تک کہ ہزاروں موتیں اس پر نہ آویں اور بیضئہ بشریت سے وہ نکل نہ آئے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 486)