حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 829
829 اگر خدا تعالیٰ نے حق کے طالبوں کو کامل معرفت دینے کا ارادہ فرمایا ہے تو ضرور اس نے اپنے مکالمہ اور مخاطبہ کا طریق کھلا رکھا ہے۔اس بارے میں اللہ جل شانہ قرآن شریف میں یہ فرماتا ہے:۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ۔یعنی اے خدا ہمیں وہ استقامت کی راہ بتلا جو راہ ان لوگوں کی ہے جن پر تیرا انعام ہوا ہے۔اس جگہ انعام سے مراد الہام اور کشف وغیرہ آسمانی علوم ہیں جو انسان کو براہ راست ملتے ہیں۔ایسا ہی ایک دوسری جگہ فرماتا ہے:۔إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ إِلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ اَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ۔حم سجدة: 31) یعنی جو لوگ خدا پر ایمان لا کر پوری پوری استقامت اختیار کرتے ہیں۔ان پر خدائے تعالیٰ کے فرشتے اترتے ہیں۔اور یہ الہام ان کو کرتے ہیں کہ تم کچھ خوف اور غم نہ کرو تمہارے لئے وہ بہشت ہے جس کے بارے میں تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔سو اس آیت میں بھی صاف لفظوں میں فرمایا ہے۔کہ خدائے تعالیٰ کے نیک بندے غم اور خوف کے وقت خدا سے الہام پاتے ہیں۔اور فرشتے اتر کر ان کی تسلی کرتے ہیں۔اور پھر ایک اور آیت میں فرمایا ہے :۔لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ (يونس:65) یعنی خدا کے دوستوں کو الہام اور خدا کے مکالمہ کے ذریعہ سے اس دنیا میں خوشخبری ملتی ہے اور آئندہ زندگی میں بھی ملے گی۔( اسلامی اصول کی فلاسفی - ر- خ - جلد 10 صفحہ 437-436) پھر وہ خدا جو مردہ کی مانند ہے پڑا پس کیا اُمید ایسے سے اور خوف اس سے کیا ایسے خدا کے خوف سے دل کیسے پاک ہو سینہ میں اس کے عشق سے کیونکر تیاک ہو بن دیکھے کس طرح کسی مد رخ پر آئے دل کیونکر کوئی خیالی صنم سے لگائے دل دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی حسن و جمالِ یار کے آثار ہی سہی ( در نمین اردو صفحه 101) ( براہین احمدیہ پنجم۔۔۔خ۔جلد 21 صفحہ 17) چونکہ خدائے تعالیٰ کی طرف سفر کرنا ایک نہایت دقیق در دقیق راہ ہے اور اس کے ساتھ طرح طرح کے مصائب اور دکھ لگے ہوئے ہیں اور ممکن ہے کہ انسان اس نادیدہ راہ میں بھول جاوے یا نا امیدی طاری ہو اور آگے قدم بڑھانا چھوڑ دے اس لئے خدا تعالیٰ کی رحمت نے چاہا کہ اپنی طرف سے اس سفر میں ساتھ ساتھ اس کو تسلی دیتی رہے اور اس کی دل دہی کرتی رہے اور اس کی کمر ہمت کو باندھتی رہے اور اس کے شوق کو زیادہ کرے سواس کی سنت اس راہ کے مسافروں کے ساتھ اس طرح پر واقع ہے کہ وہ وقتا فوقتا اپنے کلام اور الہام سے ان کو تسلی دیتا اور ان پر ظاہر کرتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔تب وہ قوت پا کر بڑے زور سے اس سفر کو طے کرتے ہیں چنانچہ اس بارے میں وہ فرماتا ہے لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ۔(يونس: 65) اسلامی اصول کی فلاسفی - ر-خ- جلد 10 صفحہ 422)