حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 483
483 تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم کا اجماع ان سب کے بعد وہ عظیم الشان آیت ہے جس پر تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہوا اور ایک لاکھ سے زیادہ صحابی نے اس بات کو مان لیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور کل گذشتہ نبی فوت ہو چکے ہیں اور وہ یہ آیت ہے و مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اَفَائِنُ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ (ال عمران : 145)۔اس جگہ خلت کے معنے خدا تعالیٰ نے آپ فرمادے کہ موت یا قتل پھر اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے محل استدلال میں جمیع انبیا گذشتہ کی موت پر اس آیت کو پیش کر کے اور صحابہ نے ترک مقابلہ اور تسلیم کا طریق اختیار کر کے ثابت کر دیا کہ یہ آیت موت مسیح اور تمام گذشتہ انبیاء علیہم السلام پر قطعی دلیل ہے اور اس پر تمام اصحاب رضی اللہ عنہم کا اجماع ہو گیا ایک فرد بھی باہر نہ رہا جیسا کہ میں نے اس بات کو مفصل طور پر رسالہ تحفہ غزنویہ میں لکھ دیا ہے پھر اس کے بعد تیرہ سو برس تک کبھی کسی مجتہد اور مقبول امام پیشوائے انام نے یہ دعوی نہیں کیا کہ حضرت مسیح زندہ ہیں بلکہ امام مالک نے صاف شہادت دی کہ فوت ہو گئے ہیں اور امام ابن حزم نے صاف شہادت دی کہ فوت ہو گئے ہیں اور تمام کامل مکمل ملہمین میں سے کبھی کسی نے یہ الہام نہ سنایا کہ خدا کا یہ کلام میرے پر نازل ہوا ہے کہ عیسی بن مریم برخلاف تمام نبیوں کے زندہ آسمان پر موجود ہے الغرض جبکہ میں نے نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ اور اقوال ائمہ اربعہ اور وحی اولیاء امت محمدیہ اور اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم میں بجز موت مسیح کے اور کچھ نہ پایا تو بنظر تکمیل لوازم تقوی انبیاء سابقین علیہم السلام کے قصص کی طرف دیکھا کہ کیا قرون گذشتہ میں اس کی کوئی نظیر بھی موجود ہے کہ کوئی آسمان پر چلا گیا ہو اور دوبارہ واپس آیا ہو تو معلوم ہوا کہ حضرت آدم سے لیکر اس وقت تک کوئی نظیر نہیں۔(تحفہ گولڑویہ۔ر۔خ۔جلد 17 صفحہ 92-91) تمام صحابہ کا ان ( حضرت مسیح علیہ السلام) کی موت پر اجماع ہو گیا اور اگر اجماع نہیں ہوا تھا تو ذرہ بیان تو کرو کہ جب حضرت عمر کے غلط خیال پر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے اور پھر دوبارہ دنیا میں آئیں گے حضرت ابوبکر نے یہ آیت پیش کی کہ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ تو حضرت ابوبکر نے کیا سمجھ کر یہ آیت پیش کی تھی اور کونسا استدلال مطلوب تھا جو مناسب محل بھی تھا اور صحابہ نے اس کے معنے کیا سمجھے تھے اور کیوں مخالفت نہیں کی تھی اور کیوں اس جگہ لکھا ہے کہ جب یہ آیت صحابہ نے سنی تو اپنے خیالات سے رجوع کر لیا۔تحفه غزنویہ - ر - خ- جلد 15 صفحہ 542) اسلام میں پہلا اجماع یہی تھا کہ کوئی نبی گذشتہ نبیوں میں سے زندہ نہیں ہے۔جیسا کہ آیت مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ سے ثابت ہے۔خدا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بہت بہت اجر دے۔جو اس اجماع کا موجب ہوئے۔اور منبر پر چڑھ کر اس آیت کو پڑھ سنایا۔(لیکچر سیالکوٹ۔ر۔خ۔جلد 20 صفحہ 247-246)