حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 482 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 482

482 انک لاتدرى ما احد ثوا بعدك فاقول كما قال العبد الصلح و كنت عليهم شهيداما دمت فهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم (صفحه 665 بخاری 693 بخاری) یعنی قیامت کے دن میں بعض لوگ میری امت میں سے آگ کی طرف لائے جائیں گے تب میں کہوں گا کہ اے میرے رب یہ تو میرے اصحاب ہیں تب کہا جائے گا کہ تجھے ان کاموں کی خبر نہیں جو تیرے پیچھے ان لوگوں نے کیے سواس وقت میں وہی بات کہوں گا جوایک نیک بندہ نے کہی تھی یعنی مسیح ابن مریم نے جب کہ اس کو پوچھا گیا تھا کہ کیا یہ تو نے تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے ماننا اور وہ بات جو میں ابن مریم کی طرح کہوں گا) یہ ہے کہ میں جب ان میں تھا ان پر گواہ تھا پھر جب تو نے مجھے وفات دیدی تو اس وقت تو ہی ان کا نگہبان اور محافظ اور نگران تھا۔اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قصہ اور مسیح ابن مریم کے قصہ کو ایک ہی رنگ کا قصہ قرار دیکر وہی لفظ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کا اپنے حق میں استعمال کیا ہے جس سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی سے وفات ہی مراد لی ہے کیونکہ اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اور مدینہ منورہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مزار شریف موجود ہے پس جبکہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کی شرح اور تفسیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت وفات پانا ہے ثابت ہوا اور وہی لفظ حضرت مسیح کے منہ سے نکلا تھا اور کھلے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ جن الفاظ کو مسیح ابن مریم نے استعمال کیا تھا وہی الفاظ میں استعمال کروں گا پس اس سے بکلی منکشف ہو گیا کہ مسیح ابن مریم بھی وفات پا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی وفات پاگئے اور دونوں برابر طور پر اثر آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی سے متاثر ہیں۔(ازالہ اوہام۔ر۔خ۔جلد 3 صفحہ 586-585) قُلْ يَتَوَفَّكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلى رَبِّكُمُ ترجعون۔(السجده: 12) تفسیر معالم کے صفحہ 162 میں زیر تفسیر آیت یعیسی إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَيَّ لکھا ہے کہ علی بن طلحہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ اِنّى مُمَيْتُک یعنی میں تجھ کو مارنے والا ہوں۔اس پر دوسرے اقوال اللہ تعالیٰ کے دلالت کرتے ہیں۔قُلْ يَتَوَفَّكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ (السجدة: 12) الَّذِينَ تَتَوَفَّهُمُ الْمَلَئِكَةُ طَيِّبِينَ (النحل : 33) الَّذِينَ تَتَوَفَّهُمُ الْمَلِئِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسُهُمُ (النحل: 29)۔غرض حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اعتقاد یہی تھا کہ حضرت عیسی فوت ہو چکے ہیں۔(ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 225-224)