حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 367 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 367

367 معنوی حفاظت کے اعتبار سے فَإِنَّ الْقُرْآنَ كِتَابٌ قَدْ كَفَّلَ اللهُ صِحَتَهُ وَ قَالَ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُوْنَ وَ إِنَّهُ لَا يَتَغَيَّرُ بِتَغَيُّرَاتِ الْأَزْمِنَةِ وَمُرُوْرِ الْقُرُوْنِ الْكَثِيرَةِ وَلَا يَنْقُصُ مِنْهُ حَرْفٌ وَّ لَا تَذِيْدُ عَلَيْهِ نُقْطَةٌ وَّ لَا تَمَسُّهُ أَيْدِي الْمَخْلُوْق وَلَا يُخَالِطُهُ قَوْلُ الْأَدَمِيِّينَ۔( ترجمه از مرتب) قرآن کریم وہ کتاب ہے جس کی صحت لفظی و معنوی کا اللہ تعالیٰ نے خود ذمہ لیا ہے اور اس نے فرمایا ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُوْنَ۔زمانہ کے تغیرات اور زیادہ صدیاں گزر جانے کے باوجود اس کتاب میں کوئی تغیر نہیں ہو گا۔اس سے نہ کوئی حرف کم ہو گا اور نہ اس میں کوئی نقطہ زیادہ ہوگا۔نہ اس میں مخلوق دست برد کر سکے گی اور نہ اس میں انسانوں کا کلام شامل ہو سکے گا۔(حمامة البشرئ - - -خ- جلد 7 صفحہ 216) ہم ہی نے اس قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے یعنی جب اس کے معانی میں غلطیاں وارد ہوں گی تو اصلاح کے لئے ہمارے مامور آیا کریں گے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 178) ارسال مجددین اور مرسلین کے ذریعہ سے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُوْنَ (الحجر: 10 ) یہ امر قرآن شریف سے بھی ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی حفاظت کرتا رہا ہے اور کرے گا جیسا کہ فرمایا ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُوْنَ یعنی بے شک ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔اِنَّا لَهُ لَحفِظُوْنَ کا لفظ صاف طور پر دلالت کرتا ہے کہ صدی کے سر پر ایسے آدمی آتے رہیں گے جو گم شدہ متاع کو لائیں اور لوگوں کو یاد دلائیں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 629) ( یہ آیت ) صاف بتلا رہی ہے کہ جب ایک قوم پیدا ہوگی کہ اس ذکر کو دنیا سے مٹانا چاہے گی تو اس وقت خدا آسمان سے اپنے کسی فرستادہ کے ذریعہ سے اس کی حفاظت کرے گا۔( تحفہ گولڑویہ۔ر - خ - جلد 17 صفحہ 267 حاشیہ نمبر 2 ) حفاظت قرآن کیونکر اور کس طرح سے ہو گی سو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس نبی کریم کے خلیفے وقتاً فوقتاً بھیجتا رہوں گا اور خلیفہ کے لفظ کو اشارہ کے لئے اختیار کیا گیا کہ وہ نبی کے جانشین ہوں گے اور اس کی برکتوں میں سے حصہ پائیں گے جیسا کہ پہلے زمانوں میں ہوتا رہا اور ان کے ہاتھ سے برجائی دین کی ہوگی اور خوف کے بعد امن پیدا ہو گا یعنی ایسے وقتوں میں آئیں گے کہ جب اسلام تفرقہ میں پڑا ہو گا پھر ان کے آنے کے بعد جوان سے سرکش رہے گا وہی لوگ بدکار اور فاسق ہیں۔شہادت القرآن - ر-خ- جلد 6 صفحہ 339 )