حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 368 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 368

368 الر كِتَبٌ أحْكِمَتْ ايتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيْرٍ۔(هود:2) الف سے مراد اللہ اور آل سے مراد جبرائیل اور را سے مراد رسل ہیں چونکہ اس میں یہی قصہ ہے کہ کونسی چیزیں انسانوں کوضروری ہیں اس لئے فرمایا کتب احكمت الآیہ یہ کتاب ایسی ہے کہ اس کی آیات کی اور استوار ہیں۔قرآن کریم کی تعلیموں کو اللہ تعالیٰ نے کئی طرح پر متحکم کیا تا کہ کسی قسم کا شک نہ رہے اور اسی لئے شروع میں ہی فرمایا: لَا رَيْبَ فِيْهِ (البقرہ: 3 ) یہ استحکام کئی طور پر کیا گیا ہے۔اولا قانون قدرت سے استواری اور استحکام قرآنی تعلیموں کا کیا گیا۔جو کچھ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے قانون قدرت اس کو پوری مدد دیتا ہے۔گویا جو قرآن میں ہے وہی کتاب مکنون میں ہے۔اس کا راز انبیاء علیہم السلام کی پیروی کے بدوں سمجھ میں نہیں آسکتا۔اور یہی وہ سر ہے جو لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ (الواقعه: 80) میں رکھا گیا ہے۔غرض پہلے قرآنی تعلیم کو قانون قدرت سے مستحکم کیا ہے مثلاً قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی صفت وحدہ لاشریک بتلائی۔جب ہم قانون قدرت میں نظر کرتے ہیں تو مانا پڑتا ہے کہ ضرور ایک ہی خالق و مالک ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔دل بھی اسے ہی مانتا ہے اور دلائل قدرت سے بھی اسی کا پتہ لگتا ہے کیونکہ ہر ایک چیز جو دنیا میں موجود ہے وہ اپنے اندر کرویت رکھتی ہے جیسے پانی کا قطرہ اگر ہاتھ سے چھوڑیں تو وہ کروی شکل کا ہوگا اور کروی شکل تو حید کو مستلزم ہے اور یہی وجہ ہے کہ پادریوں کو بھی ماننا پڑا کہ جہاں تثلیث کی تعلیم نہیں پہنچی وہاں کے رہنے والوں سے توحید کی پرسش ہوگی چنانچہ پادری فنڈر نے اپنی تصنیفات میں اس امر کا اعتراف کیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر قرآن کریم دنیا میں نہ بھی ہوتا تب بھی ایک ہی خدا کی پرستش ہوتی۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کا بیان صحیح ہے کیونکہ اس کا نقش انسانی فطرت اور دل میں موجود ہے اور دلائل قدرت سے اس کی شہادت ملتی ہے برخلاف اس کے انجیلی تثلیث کا نقش نہ دل میں ہے نہ قانون قدرت اس کا مؤید ہے۔یہی معنے ہیں کتب اُحْكِمَتْ الآيه کے یعنی قانون قدرت سے اس کی تعلیموں کو ایسا مستحکم اور استوار کیا گیا ہے کہ مشرک و عیسائی کو بھی ماننا پڑا کہ انسان کے مادۂ فطرت سے توحید کی باز پرس ہوگی۔دوسری وجہ استحکام کی خدا تعالیٰ کے نشانات ہیں۔کوئی نبی کوئی مامور دنیا میں ایسا نہیں آتا جس کے ساتھ تائیدات الہی شامل نہ ہوں اور یہ تائیدات اور نشانات ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت پر شوکت اور پر قوت تھے۔آپ کے حرکات سکنات میں کلام میں نشانات تھے۔گویا آپ کا وجود از سر تا پا نشانات الہی کا پتلا تھا۔تیسرا احکام نبی کا پاک چال چلن اور راست بازی ہے۔یہ منجملہ ان باتوں کے ہے جو عقلمندوں کے نزد یک امین ہونا بھی ایک دلیل ہے جیسے حضرت ابو بکر صدیق نے اس سے دلیل پکڑی۔