حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 366
366 یہ حديث ( ان الله يبعث لهذه الامة على راس كل مائة سنة من يجدد لها دينها۔ناقل) إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَوَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُوْن کی شرح ہے۔صدی ایک عام آدمی کی عمر ہوتی ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا کہ سوسال بعد کوئی نہ رہے گا۔جیسے صدی جسم کو مارتی ہے اسی طرح ایک روحانی موت بھی واقع ہوتی ہے۔اس لئے صدی کے بعد ایک نئی ذریت پیدا ہو جاتی ہے۔جیسے اناج کے کھیت۔اب دیکھتے ہیں کہ ہرے بھرے ہیں ایک وقت میں بالکل خشک ہوں گے پھر نئے سر سے پیدا ہو جا ئیں گے اس طرح پر ایک سلسلہ جاری رہتا ہے۔پہلے اکا بر سو سال کے اندر فوت ہو جاتے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ ہر صدی پرنیا انتظام کر دیتا ہے جیسا رزق کا سامان کرتا ہے۔پس قرآن کی حمایت کے ساتھ یہ حدیث تواتر کا حکم رکھتی ہے۔کپڑا پہنتے ہیں تو اس کی بھی تجدید کی ضرورت پیدا ہوتی ہے اسی طریق پر نئی ذریت کو تازہ کرنے کیلئے سنت اللہ اسی طرح جاری ہے کہ ہر صدی پر مجدد آتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 87-86) تکمیل وعدہ حفاظت قرآن مختلف ذرائع سے قرآن شریف میں یہ وعدہ تھا کہ خدا تعالیٰ فتنوں اور خطرات کے وقت میں دین اسلام کی حفاظت کریگا جیسا کہ وہ فرماتا ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُوْن۔سوخدا تعالیٰ نے بموجب اس وعدہ کے چار قسم کی حفاظت اپنی کلام کی کی اول حافظوں کے ذریعہ سے اس کے الفاظ اور ترتیب کو محفوظ رکھا اور ہر ایک صدی میں لاکھوں ایسے انسان پیدا کئے جو اس کی پاک کلام کو اپنے سینوں میں حفظ رکھتے ہیں ایسا حفظ کہ اگر ایک لفظ پوچھا جائے تو اس کا اگلا پچھلا سب بتا سکتے ہیں اور اس طرح پر قرآن کو تحریف لفظی سے ہر ایک زمانہ میں بچایا۔دوسرے ایسے ائمہ اور اکابر کے ذریعہ سے جن کو ہر ایک صدی میں فہم قرآن عطا ہوا ہے جنہوں نے قرآن شریف کے اجمالی مقامات کی احادیث نبویہ کی مدد سے تفسیر کر کے خدا کی پاک کلام اور پاک تعلیم کو ہر ایک زمانہ میں تحریف معنوی سے محفوظ رکھا۔تیسرے متکلمین کے ذریعہ سے جنہوں نے قرآنی تعلیمات کو عقل کے ساتھ تطبیق دے کر خدا کی پاک کلام کو کو نہ اندیش فلسفیوں کے استخفاف سے بچایا ہے۔چوتھے روحانی انعام پانے والوں کے ذریعہ سے جنہوں نے خدا کی پاک کلام کو ہر ایک زمانہ میں معجزات اور معارف کے منکروں کے حملہ سے بچایا ہے۔ایام الصلح - ر - خ - جلد 14 صفحہ 288 ) پوچھا گیا کہ قرآن کا جو نزول ہوا ہے وہ یہی الفاظ ہیں یا کس طرح؟ فرمایا: - یہی الفاظ ہیں اور یہی خدا کی طرف سے نازل ہوا۔قرآت کا اختلاف الگ امر ہے ما اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَّلَا نَبِي (الحج: 53) میں لَا مُحَدَّثِ قرآت شازہ ہے اور یہ قرآت صحیح حدیث کا حکم رکھتی ہے جس طرح نبی اور رسول کی وحی محفوظ ہوتی ہے اسی طرح محدث کی وحی بھی محفوظ ہوتی ہے جیسا کہ اس آیت میں پایا جاتا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 449)