حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 356 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 356

356 دوسری قوم وہ ہے جو آفتاب کے پاس ہے اور جلنے والی دھوپ ہے۔یہ مسلمانوں کی موجودہ حالت ہے۔آفتاب یعنی شریعت حقہ ان کے پاس موجود ہے مگر یہ لوگ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ فائدہ تو حکمت عملی سے اٹھایا جاتا ہے جیسے مثلا روٹی پکانا۔وہ گوآگ سے پکائی جاتی ہے لیکن جب تک اس کے مناسب حال انتظام اور تدبیر نہ کی جاوے وہ روٹی تیار نہیں ہو سکتی اسی طرح پر شریعت حقہ سے کام لینا بھی ایک حکمت عملی کو چاہتا ہے۔پس مسلمانوں نے اس وقت باوجود یکہ ان کے پاس آفتاب اور اس کی روشنی موجود تھی اور ہے لیکن کام نہیں لیا اور مفید صورت میں اس کو استعمال نہیں کیا اور خدا کے جلال اور عظمت سے حصہ نہیں لیا۔اور تیسری وہ قوم ہے جس نے اس سے فریاد کی کہ ہم کو یا جوج اور ماجوج سے بچا یہ ہماری قوم ہے جو سیح موعود کے پاس آئی اور اس نے اس سے استفادہ کرنا چاہا ہے۔غرض آج ان قصوں کا علمی رنگ ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ یہ قصہ پہلے بھی کسی رنگ میں گذرا ہے لیکن یہ سچی بات ہے کہ اس قصہ میں واقعہ آئندہ کا بیان بھی بطور پیشگوئی تھا جو آج اس زمانہ میں پورا ہو گیا۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 175-174) معانی و قرآن اور قصص قرآن وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّيطِيْنُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَنَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَنُ وَلكِنَّ الشَّيْطِيْنَ كَفَرُوا يُعَلِمُوْنَ النَّاسَ السّحرق۔۔۔(البقره: 103) بعض نابکار قو میں حضرت سلیمان علیہ السلام کو بت پرست کہتی ہیں اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان کی تردید کرتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف واقعات پر بحث کرتا ہے اور قرآن کل دنیا کی صداقتوں کا مجموعہ اور سب دین کی کتابوں کا فخر ہے جیسے فرمایا ہے۔فِيْهَا كُتُبْ قَيِّمَةٌ۔اور يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً۔(البينة: 3) پس قرآن کریم کے معنی کرتے وقت خارجی قصوں کو نہ لیں بلکہ واقعات کو مد نظر رکھنا چاہیئے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 388) حضرت عیسی کو اللہ تعالیٰ نے کلمۃ اللہ خصوصیت کے ساتھ کیوں کہا۔اس کی وجہ یہی تھی کہ ان کی ولادت پر لوگ بڑے گندے اعتراض کرتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان الزاموں سے بری کرنے کے لئے فرمایا کہ وہ تو کلمتہ اللہ ہیں۔ان کی ماں بھی صدیقہ ہے یعنی بڑی پاکباز اور عفیفہ ہے ورنہ یوں تو کلمۃ اللہ ہر شخص ہے۔ان کی خصوصیت کیا تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلمے اتنے ہیں کہ وہ ختم نہیں ہو سکتے۔انہی اعتراضوں سے ہی بری کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کو کہا کہ وہ شیطان کے مس سے پاک تھے ورنہ کیا دوسرے انبیا ء شیطان کے ہاتھ سے مس شدہ ہیں؟ جو نعوذ باللہ دوسرے الفاظ میں یوں ہے کہ ان پر شیطان کا تسلط ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ شیطان کو کسی معمولی انسان پر بھی تسلط نہیں ہوتا تو انبیاء پر کس طرح ہو سکتا ہے؟ اصل وجہ صرف یہی تھی کہ ان پر برے اعتراض کئے گئے تھے۔اسی واسطے ان کی بریت کا اظہار فرمایا۔جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وماكفر سليمن (البقره: 103 ) کوئی کہے کہ کیا انبیاء بھی کافر ہوا کرتے ہیں؟ نہیں ایسا نہیں۔لوگوں نے ان پر اعتراض کیا تھا کہ وہ بت پرست ہو گئے تھے ایک عورت کے لیے۔اس اعتراض کا جواب دیا۔یہی حال ہے حضرت عیسی کے متعلق۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 119-118)