حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 355 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 355

355 قرآنی قصص کے فوائد مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی ایک یہ بھی نشانی لکھی ہے کہ اس میں کوئی قصہ درج نہ ہو مگر معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کے ہوش و حواس قائم نہیں ہیں جو کچھ بیان کرتا ہے وہ صرف دعوی ہی ہوتا ہے ورنہ صاف ظاہر ہے کہ خدا جو عالم الغیب اور رحیم اور سر چشمہ تمام علوم ہے اس کی مربیانہ عادات میں یہ بھی داخل ہے کہ متاخرین کو متقدمین کے اخلاق اور عادات سے اطلاع دیتا ہے اور یہ جتلاتا ہے کہ پہلے اس سے ایسے ایسے صادق وفادار مومن گزر چکے ہیں جنہوں نے شدائد اور مصائب پر صبر کیا اور بڑے بڑے امتحانوں میں پڑ کر پورے نکلے اور انہوں نے خدا کی راہ میں آگے سے آگے قدم رکھا اور خدا نے ان کی وفاداری کو دیکھ کر ان پر بڑے بڑے فضل کئے اور ہر ایک امر میں ان کو کامیابی بخشی اور اپنے برگزیدہ بندوں میں ان کو داخل کیا اور ان کے مقابل پر ایک اور لوگ بھی گذرے ہیں جو خدا سے برگشتہ رہے اور دلیری سے ہر ایک قسم کے گناہ کئے اور خدا کے بندوں کو دکھ دیئے اور آخر وہ پکڑے گئے اور عذاب شدید میں مبتلا ہوئے۔چشمه معرفت - ر- خ جلد 23 صفحہ 155 ) اور جس قدر قرآن شریف میں قصے ہیں وہ بھی در حقیقت قصے نہیں بلکہ وہ پیشگوئیاں ہیں جو قصوں کے رنگ میں لکھی گئی ہیں ہاں وہ توریت میں تو ضرور صرف قصے پائے جاتے ہیں مگر قرآن شریف نے ہر ایک قصہ کو رسول کریم کے لئے اور اسلام کے لئے ایک پیشگوئی قرار دے دیا ہے اور یہ قصوں کی پیشگوئیاں بھی کمال صفائی سے پوری ہوئی ہیں غرض قرآن شریف معارف و حقائق کا ایک دریا ہے اور پیشگوئیوں کا ایک سمندر ہے۔اور ممکن نہیں کہ کوئی انسان بجز ذریعہ قرآن شریف کے پورے طور پر خدا تعالیٰ پر یقین لا سکے کیونکہ یہ خاصیت خاص طور پر قرآن شریف میں ہی ہے کہ اس کی کامل پیروی سے وہ پر دے جو خدا میں اور انسان میں حائل ہیں سب دور ہو جاتے ہیں۔(چشمہ معرفت۔۔۔خ۔جلد 23 صفحہ 271) وَيَسْتَلُوْنَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ الاخر (الكهف: 84 تا 102) یہ زمانہ چونکہ کشف حقائق کا زمانہ ہے اور خدا تعالیٰ قرآن شریف کے حقائق اور معارف مجھ پر کھول رہا ہے۔ذوالقرنین کے قصے کی طرف جو میری توجہ ہوئی تو مجھے یہ سمجھایا گیا کہ ذوالقرنین کے پیرایہ میں مسیح موعود ہی کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا نام ذوالقرنین اس لئے رکھا ہے کہ قرآن چونکہ صدی کو کہتے ہیں اور مسیح موعود دو قرنوں کو پائے گا اس لئے ذوالقرنین کہلائے گا۔چونکہ میں نے تیرھویں اور چودھویں صدی دونوں پائی ہیں اور اسی طرح پر دوسری صدیاں ہندوؤں اور عیسائیوں کی بھی پائی ہیں اس لحاظ سے تو ذوالقرنین ہے اور پھر اسی قصہ میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ذوالقرنین نے تین قومیں پائیں۔اول وہ جو غروب آفتاب کے پاس ہے اور کیچڑ میں ہے اس سے مراد عیسائی قوم ہے جس کا آفتاب ڈوب گیا ہے یعنی شریعت حقہ ان کے پاس نہیں رہی۔روحانیت مرگئی اور ایمان کی گرمی جاتی رہی یہ ایک کیچڑ میں پھنسے ہوئے ہیں۔