حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 259
259 کریں گے اتنے میں آسمان پر قرناء پھونکی جائے گی یعنی آسمان کا خدا مسیح موعود کو مبعوث فرما کر ایک تیسری قوم پیدا کر دے گا اور ان کی مدد کے لئے بڑے نشان دکھلائے گا یہاں تک کہ تمام سعید لوگوں کو ایک مذہب پر یعنی اسلام پر جمع کر دے گا اور وہ مسیح کی آواز سنیں گے اور اس کی طرف دوڑیں گے تب ایک ہی چوپان اور ایک ہی گلہ ہوگا اور وہ دن بڑے ہی سخت ہوں گے اور خدا ہیبت ناک نشانوں کے ساتھ اپنا چہرہ ظاہر کر دے گا اور جو لوگ کفر پر اصرار کرتے ہیں اور وہ اسی دنیا میں باعث طرح طرح کی بلاؤں کے دوزخ کا منہ دیکھ لیں گے۔خدا فرماتا ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کی آنکھیں میری کلام سے پردہ میں تھیں اور جن کے کان میرے حکم کوسن نہیں سکتے تھے۔کیا ان منکروں نے یہ گمان کیا تھا کہ یہ امرسہل ہے کہ عاجز بندوں کو خدا بنا دیا جائے اور میں معطل ہو جاؤں اس لئے ہم ان کی ضیافت کے لئے اسی دنیا میں جہنم نمودار کر دیں گے یعنی بڑے بڑے ہولناک نشان ظاہر ہوں گے اور یہ سب نشان مسیح موعود کی سچائی پر گواہی دیں گے۔اس کریم کے فضل کو دیکھو کہ یہ انعامات اس مشت خاک پر ہیں جس کو مخالف کا فر اور دجال کہتے ہیں۔(براہین احمدیہ۔رخ جلد 21 صفحہ 118 تا126) الَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِي غِطَاءٍ عَنْ ذِكْرِى وَكَانُوا لَا يَسْتَطِيعُونَ سَمْعًا (الكهف: 102) ذکر سے مراد یہ ہے کہ جو میں نے ان کو اپنے مامور کی معرفت یاد کیا۔خدا تعالیٰ کا یاد کر نا ہی ہوتا ہے کہ اپنی طرف سے ایک مصلح کو بھیج دیا سواس مامور سے وہ غفلت میں رہے۔ان کی آنکھوں کے آگے طرح طرح کے شبہات کے حجاب چھائے رہے اور حق کا نور نظر نہ آیا۔کیوں کہ جوش تعصب سے ان کی ایسی حالت ہو گئی جو وہ اس مامور کی بات سن ہی نہیں سکتے (وَكَانُوا لَا يَسْتَطِيعُونَ سَمْعًا۔) اب ان لوگوں کی حالت یہی ہو رہی ہے اور اس کی سزا بھی وہی مل رہی ہے جو قرآن مجید میں ہے کہ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَفِرِينَ عَرُضًا (الکھف: 101) (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 429) نفخ صور سے آسمانی مصلح کی بعثت مراد ہے نُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَا هُمُ جَمْعًا- (الكهف: 100) یادر ہے کہ صور کا لفظ ہمیشہ عظیم الشان تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے گویا جب خدا تعالیٰ اپنی مخلوقات کو ایک صورت سے منتقل کر کے دوسری صورت میں لاتا ہے۔تو اس تغیر صور کے وقت کو نفخ صور سے تعبیر کرتے ہیں اور اہل کشف پر مکاشفات کی رو سے اس صور کا ایک وجو د جسمانی بھی محسوس ہوتا ہے اور یہ عجائبات اس عالم میں سے ہیں جن کے سراس دنیا میں بجر منقطعین کے اور کسی پر کھل نہیں سکتے۔بہر حال آیت موصوفہ بالا سے ثابت ہے کہ آخری زمانہ میں عیسائی مذہب اور حکومت کا زمین پر غلبہ ہوگا اور مختلف قوموں میں بہت سے تنازعات مذہبی پیدا ہوں گے اور ایک قوم دوسری قوم کو دبانا چاہے گی اور ایسے زمانہ میں صور پھونک کر تمام قوموں کو دین اسلام پر جمع کیا جاویگا یعنی سنت اللہ کے موافق آسمانی نظام قائم ہوگا اور ایک آسمانی مصلح آئے گا در حقیقت اسی مصلح کا نام مسیح موعود ہے۔شہادت القرآن - رخ جلد 6 صفحہ (312)