حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 260 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 260

260 ایسا ہی قرآن کریم میں آنے والے مجدد کا بلفظ مسیح موعود کہیں ذکر نہیں بلکہ لفظ لفخ صور سے اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔تا معلوم ہو مسیح موعود ارضی اور زمینی ہتھیاروں کے ساتھ ظاہر نہیں ہوگا بلکہ آسمانی نفخ پر اس کے اقبال اور عروج کا مدار ہوگا اور وہ پر حکمت کلمات کی قوت سے اور آسمانی نشانوں سے لوگوں کو حق اور سچائی کی طرف کھینچے گا۔کیونکہ وہ معقولی فتنوں کے وقت آئے گا نہ سیفی فتنوں کے وقت اور اصل حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہر ایک فتنہ کی طرز کے موافق نبی اور مجد دکو بھیجتا ہے۔شہادت القرآن۔رخ جلد 6 صفحہ 360) اور پھر دوسری آیت میں فرمایا۔وَعَرَضُنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكْفِرِينَ عَرَضًا۔(الکھف:101) اور اس دن جو لوگ مسیح موعود کی دعوت کو قبول نہیں کریں گے ان کے سامنے ہم جہنم کو پیش کریں گے یعنی طرح طرح کے عذاب نازل کریں گے جو جہنم کا نمونہ ہوں گے اور پھر فرمایا الَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِي غِطَّاءٍ عَنْ ذِكْرِى وَكَانُوا لَا يَسْتَطِيعُونَ سَمُعا۔(الکھف: 102) یعنی وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ مسیح موعود کی دعوت اور تبلیغ سے ان کی آنکھیں پردہ میں رہیں گی اور وہ اس کی باتوں کو سن بھی نہیں سکیں گے۔اور سخت بیزار ہوں گے اس لئے عذاب نازل ہوگا۔اس جگہ صور کے لفظ سے مراد مسیح موعود ہے۔کیونکہ خدا کے نبی اسی کےصور ہوتے ہیں یعنی قرنا جن کے دلوں میں وہ اپنی آواز پھونکتا ہے۔یہی محاورہ پہلی کتابوں میں بھی آیا ہے کہ خدا کے نبیوں کو خدا کی قرنا قرار دیا گیا یعنی جس طرح قرنا بجانے والا قرنا میں اپنی آواز پھونکتا ہے اسی طرح خدا ان کے دلوں میں آواز پھونکتا ہے اور یا جوج ماجوج کے قرینہ سے قطعی طور سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ قرنا مسیح موعود ہے۔کیونکہ احادیث صحیحہ سے یہ امر ثابت شدہ ہے کہ یا جوج ماجوج کے زمانہ میں ظاہر ہونے والا مسیح موعود ہی ہوگا۔(چشمہ معرفت۔ر۔خ۔جلد 23 صفحہ 84 تا 86 ) حضرت اقدس کے وقت انسانیت جمع ہوگی وَنُفِخَ فِي الصُّورِ جَمَعْنَهُمْ جَمْعًا- اس سے بھی مسیح موعود کی دعاؤں کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔نزول از آسمان کے یہی معانی ہیں کہ جب کوئی امر آسمان سے پیدا ہوتا ہے تو کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اسے رد نہیں کر سکتا۔آخری زمانہ میں شیطان کی ذریت بہت جمع ہو جائے گی کیونکہ وہ شیطان کا آخری جنگ ہے مگر مسیح موعود کی دعا ئیں اس کو ہلاک کر دیں گی۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 559) اللہ تعالیٰ نے دو فرقوں کا ذکر فرما دیا۔ایک تو وہ سعید جنہوں نے مسیح موعود کو قبول کیا دوسرے وہ شقی جو سیح کا کفر کر نے والے ہوں گے۔ان کے لئے فرمایا ہم طاعون بطور جہنم بھیجیں گے اور ونُفِخَ فِي الصُّورِ (الكهف: 100) سے یہ مراد ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں وحی کے ذریعہ ان میں آواز دی جاتی ہے اور پھر آواز ان کی معر فت تمام جہان میں پہنچتی ہے پھر ان میں ایک ایسی کشش پیدا ہو جاتی ہے کہ لوگ باوجود داختلاف خیالات وطبائع و حالات کے اس کی آواز پر جمع ہونے لگتے ہیں اور آخر کا روہ زمانہ آجاتا ہے کہ ایک ہی گلہ اور ایک ہی گلہ بان ہو۔خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے خود ہی ایسے اسباب مہیا کر دیئے ہیں کہ جس سے تمام سعید روحیں ایک دین پر جمع ہوسکیں۔آنحضرت علیہ کوفرمایا گیا تھا۔قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا۔(الاعراف: 159) ایک طرف یہ جَمِیعًا اور دوسری طرف جَمَعْنَهُمُ ایک خاص علاقہ رکھتا ہے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 428)