حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 258 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 258

258 کے نزدیک کفر ہے اور خیال کرتے ہیں کہ یہی ہمارے لئے کافی ہے حالانکہ وہ کچھ بھی چیز نہیں اور اس سے منکر ہیں کہ کسی سے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کا مکالمہ مخاطبہ یقینی اور واقعی طور پر ہوسکتا ہے۔ہاں اس قدر ان کا خیال ہے کہ دلوں میں القاء تو ہوتا ہے مگر نہیں معلوم کہ وہ القاء شیطانی ہے یارحمانی ہے اور نہیں سمجھتے کہ ایسے القاء سے ایمانی حالت کو فائدہ کیا ہوا۔اور کونسی ترقی ہوئی بلکہ ایسا القاء تو ایک سخت ابتلاء ہے جس میں معصیت کا اندیشہ یا ایمان جانے کا خطرہ ہے کیونکہ اگر ایسی مشتبہ وحی میں جو نہیں معلوم شیطان سے ہے یا رحمان سے ہے کسی کو تاکیدی حکم ہو کہ یہ کام کر تو اگر اس نے وہ کام نہ کیا۔اس خیال سے کہ شاید یہ شیطان نے حکم دیا ہے۔اور دراصل وہ خدا کا حکم تھا تو یہ انحراف موجب معصیت ہوا۔اور اگر اس حکم کو بجالایا اور اصل میں شیطان کی طرف سے وہ حکم تھا تو اس سے ایمان گیا۔پس ایسے الہام پانے والوں سے وہ لوگ اچھے رہے جو ایسے خطر ناک الہامات سے جن میں شیطان بھی حصہ دار ہوسکتا ہے محروم ہیں۔ایسے عقیدہ کی حالت میں عقل بھی کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی ممکن ہے کہ کوئی الہام الہی ایسا ہوجیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کی ماں کا تھا جس کی تعمیل میں اس کے بچہ کی جان خطرہ میں پڑتی تھی۔یا جیسا کہ خضر علیہ السلام کا الہام تھا جس نے بظاہر حال ایک نفس زکیہ کا ناحق خون کیا۔اور چونکہ ایسے امور بظاہر شریعت کے برخلاف ہیں اس لئے شیطانی دخل کے احتمال سے کون ان پر عمل کرے گا۔اور بوجہ عدم تحمیل معصیت میں گرے گا اور ممکن ہے کہ شیطان لعین کوئی ایسا حکم دے کہ بظاہر شریعت کے مخالف معلوم نہ ہو اور دراصل بہت فتنہ اور تباہی کا موجب ہو یا پوشیدہ طور پر ایسے امور ہوں جو موجب سلب ایمان ہوں۔پس ایسے مکالمہ مخاطبہ سے فائدہ کیا ہوا۔پھر آیات متذکرہ بالا کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ذوالقرنین یعنی مسیح موعود اس قوم کو جو یا جوج ماجوج سے ڈرتی ہے کہے گا کہ مجھے تانبالا دو کہ میں اس کو پکھلا کر اس دیوار پر انڈیل دوں گا۔پھر بعد اس کے یا جوج ماجوج طاقت نہیں رکھیں گے کہ ایسی دیوار پر چڑھ سکیں یا اس میں سوراخ کر سکیں۔یادر ہے کہ لو ہا اگر چہ بہت دیر تک آگ میں رہ کر آگ کی صورت اختیار کر لیتا ہے مگر مشکل سے پکھلتا ہے مگر تانبا جلد پکھل جاتا ہے اور سالک کے لئے خدا تعالیٰ کی راہ میں پچھلنا بھی ضروری ہے۔پس یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسے مستعد دل اور نرم طبیعتیں لاؤ کہ جو خدا تعالیٰ کے نشانوں کو دیکھ کر پگھل جائیں۔کیونکہ سخت دلوں پر خدا تعالیٰ کے نشان کچھ اثر نہیں کرتے۔لیکن انسان شیطانی حملے سے تب محفوظ ہوتا ہے کہ اول استقامت میں لوہے کی طرح ہو اور پھر وہ لو ہا خدا تعالیٰ کی محبت کی آگ سے آگ کی صورت پکڑلے اور پھر دل پگھل کر اس لوہے پر پڑے اور اس کو منتشر اور پراگندہ ہونے سے تھام لے سلوک تمام ہونے کے لئے یہ تین ہی شرطیں ہیں جو شیطانی حملوں سے محفوظ رہنے کے لئے سد سکندری ہیں اور شیطانی روح اس دیوار پر چڑھ نہیں سکتی اور نہ اس میں سوراخ کر سکتی ہے۔اور پھر فرمایا کہ یہ خدا کی رحمت سے ہوگا اور اس کا ہاتھ یہ سب کچھ کرے گا۔انسانی منصوبوں کا اس میں دخل نہیں ہوگا۔اور جب قیامت کے دن نزدیک آجائیں گے تو پھر دوبارہ فتنہ برپا ہو جائے گا۔یہ خدا کا وعدہ ہے۔اور پھر فرمایا کہ ذوالقرنین کے زمانہ میں جو مسیح موعود ہے ہر ایک قوم اپنے مذہب کی حمایت میں اٹھے گی اور جس طرح ایک موج دوسری موج پر پڑتی ہے ایک دوسرے پر حملہ