حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 140
140 لفظ ”دین“ کے لغوی معانی ملِكِ يَوْمِ الدِّين وَإِلَيْهِ أَشَارَ عَزَّ اسْمُهُ بِقَوْلِهِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ وَإِنَّهُ اخِرُ الْفُيُوْضِ مِنْ رَّبِّ الْعَالَمِيْنَ - وَمَاذُكِرَ فَيْضٌ بَعْدَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَعْلَمِ الْعَالِمِيْنَ - وَالْفَرْقُ فِي هَذَا الْفَيْضِ وَفَيْضِ الرَّحِيمِيَّةَ - اَنَّ الرَّحِيمِيَّةِ تُبَلِّغُ السَّالِكَ إِلَى مَقَامٍ هُوَ وَسِيْلَةُ النِّعْمَةِ - وَأَمَّا فَيْضُ الْمَالِكِيَّةِ بِالْمُجَازَاةِ - فَهُوَ يُبَلِّغُ السَّالِكَ إِلَى نَفْسِ النِّعْمَةِ وَإِلَى مُنْتَهَى الثَّمَرَاتِ وَغَايَةِ الْمُرَادَاتِ وَاقْصَى الْمَقْصُوْدَاتِ فَلَا خَفَاءَ أَنَّ هَذَا الْفَيْضَ هُوَاخِرُ الْفُيُوْضِ مِنَ الْحَضْرَةِ الْأَحَدِيَّةِ وَلِلنَّصُلْةِ الْإِنْسَانِيَّةِ كَالْعِلَّةِ الْغَائِيَّةِ - وَعَلَيْهِ يَتِمُ النِّعَمُ كُلُّهَا وَ تَسْتَكْمِلُ بِهِ دَائِرَةُ الْمَعْرِفَةِ وَدَائِرَةُ السِّلْسِلَةِ آلَا تَرى أَنَّ سِلْسِلَةَ خُلَفَاءِ مُوسَى انْتَهَتْ إلَى نُكْتَةِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ فَظَهَرَ عِيسَى فِي آخِرِهَا وَ بُدِلَ الْجَوْرُ وَالظُّلْمُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ مِنْ غَيْرِ حَرْبٍ وَّ مُحَارِبِينَ - كَمَا يُفْهَمُ مِنْ لَّفْظِ الدِّيْنِ فَإِنَّهُ جَاءَ بِمَعْنَى الْحِلْمِ وَالرّفْقِ فِى لُغَةِ الْعَرْبِ وَعِنْدَ أَدَبَاءِ هِمُ أَجْمَعِينَ - ترجمہ: اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام ملِكِ يَوْمِ الدِّين میں اشارہ فرمایا ہے۔اور یہ فیض پر وردگار عالم کی طرف سے آخری فیض ہے۔اور اس کے بعد سب عالموں سے زیادہ علم رکھنے والے خدا کی کتاب میں کسی اور فیض کا ذکر نہیں کیا گیا۔اس فیض اور رحیمیت کے فیض میں یہ فرق ہے کہ رحیمیت سالک کو اس مقام تک پہنچاتی ہے جو نعمت ملنے کا وسیلہ ہے باقی رہا جزا سزا کے مالک کا فیض ہو وہ سالک کو حقیقی نعمت اور آخری شمرہ اور مرادوں کی انتہا اور مقاصد کی آخری حد تک پہنچا دیتا ہے۔پس ظاہر ہے کہ بارگاہ ایزدی کے فیوض میں سے یہ انتہائی فیض ہے اور انسانی پیدائش کی علت غائی ہے۔اور اس پر تمام نعمتیں ختم ہو جاتی ہیں۔اور اس پر دائرہ معرفت اور دائرہ سلسلہ مکمل ہو جاتا ہے۔کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خلفائے موسیٰ کا سلسلہ ملِكِ يَوْمِ الدِّين کے نکتہ پر ختم ہو گیا تھا۔چنانچہ اس سلسلہ کے آخر میں حضرت عیسی آئے اور ظلم وجور کو بغیر کسی لڑائی اور لڑنے والوں کے عدل و احسان سے بدل دیا گیا۔جیسا کہ الدین کے لفظ سے سمجھا جاتا ہے۔کیونکہ لغت عرب اور اہل عرب کے سب ادیبوں کے نزدیک یہ لفظ بردباری اور نرمی کے معنوں میں آیا ہے۔(اعجاز مسیح۔رخ جلد 18 صفحہ 142 تا143)