حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 141 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 141

141 صلى الله آنحضرت صفت مالک یوم الدین کے مظہر ہیں سورۃ فاتحہ میں جو اللہ تعالیٰ کی صفات اربعہ بیان ہوئی ہیں آنحضرت ﷺ ان چاروں صفات کے مظہر کامل تھے۔مثلاً پہلی صفت رَبِّ الْعَلَمِینَ ہے آنحضرت ﷺ اس کے بھی مظہر ہوئے جب کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبياء: 108) جیسے رَبِّ الْعَلَمِینَ عام ربوبیت کو چاہتا تھا اسی طرح آنحضرت ﷺ کے فیوض و برکات اور آپ کی ہدایت وتبلیغ کل دنیا اور کل عالموں کے لیے قرار پائی۔پھر دوسری صفت رحمن کی ہے آنحضرت ﷺ اس صفت کے بھی کامل مظہر ٹھہرے کیونکہ آپ کے فیوض و برکات کا کوئی بدل اور اجر نہیں مَا أَسْتَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ (الفرقان:58) پھر آپ رحیمیت کے مظہر ہیں آپ نے اور آپ کے صحابہ نے جو محنتیں اسلام کے لیے کیں اور ان خدمات میں جو تکالیف اٹھا ئیں وہ ضائع نہیں ہوئیں بلکہ ان کا اجر دیا گیا اور خود رسول اللہ ﷺ پر قرآن شریف میں رحیم کا لفظ بولا ہی گیا ہے پھر آپ مالکیت یوم الدین کے مظہر بھی ہیں اس کی کامل تجلی فتح مکہ کے دن ہوئی۔ایسا کامل ظہور اللہ تعالیٰ کی ان صفات اربعہ کا جو ام الصفات ہیں اور کسی نبی میں نہیں ہوا۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 381-382) حضرت مسیح موعود کے زمانے کا نام یوم الدین ہے ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُرِى نَمُوذَج هذِهِ الصَّفَاتِ فِى أخِرِينَ مِنَ الْأُمَّةِ لِيَكُونَ اخِرُ الْمِلَّةِ كَمِثْلِ أَوَّلِهَا فِي الْكَيْفِيَّةِ - وَلِيَتِمَّ أَمْرُ الْمُشَابَهَةِ بِالَّا مَمِ السَّابِقَةِ - كَمَا أُشِيْرَ إِلَيْهِ فِي هَذِهِ السُّورَةِ أَعْنِي قَوْلَهُ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ فَتَدَبَّرُ الْفَاظَ هَذِهِ الْآ يَةِ - وَسُمِّيَ زَمَانُ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ يَوْمَ الدِّينِ لِاَنَّهُ زَمَانٌ يُحْيِي فِيهِ الدِّينُ - وَتُحْشَرُ النَّاسُ لِيُقْبِلُوا بِالْيَقِينِ وَلَا شَكٍّ وَلَا خِلَافَ أَنَّهُ رَبِّي زَمَانَنَا هَذَا بِأَنْوَاعِ التَّرْبِيَّةِ وَأَرَانَا كَثِيرًا مِّنُ فُيُوْضِ الرَّحْمَانِيَّةِ وَالرَّحِيمِيَّةِ - كَمَا أَرَى السَّابِقِينَ مِنَ الْاَنْبِيَاءِ وَالرُّسُلِ وَاَرُ بَابِ الْوَلَا يَةِ وَالْخُلَّةِ - پھر اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ امت ( محمد یہ ) کے آخری دور میں بھی ان صفات کا نمونہ دکھائے ، تابلحاظ کیفیت ملت کا آخری حصہ پہلے حصہ کی طرح ہو جائے اور تا گزشتہ امتوں کے ساتھ (اس امت کی ) مشابہت پوری ہو جائے۔جس کی طرف اس سورۃ میں اشارہ کیا گیا ہے یعنی ارشاد باری تعالیٰ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں۔پس اس آیت کے الفاظ پر غور کریں۔مسیح موعود کے زمانہ کا نام اس لیے بھی یوم الدین رکھا گیا کہ یہ ایسا زمانہ ہے جس میں دین کو زندہ کیا جائے گا اور لوگوں کو اس امر پر مجتمع کیا جائے گا کہ وہ ( دلی) یقین کے ساتھ آگے بڑھیں۔اور اس میں نہ کوئی شبہ ہے اور نہ ہی (کسی کو) کچھ اختلاف ( ہوسکتا ) ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اس زمانہ کی کئی طریق سے تربیت فرمائی ہے اور رحمانیت اور رحیمیت کے بہت سے فیوض ہمیں دکھائے ہیں جیسا کہ اس نے پہلے نبیوں ، رسولوں ، ولیوں اور اپنے دوستوں کو دکھائے تھے۔(اعجاز مسیح۔رخ جلد 18 صفحہ 146 - 148)