حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 139 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 139

139 پس جو کچھ حضرت موسیٰ نے فرمایا تھا وہ بھی اور جو حضرت عیسی (علیہا السلام) نے فرمایا تھا وہ بھی پورا ہوا۔اور اس طرح خدائے قادر کا وعدہ بھی پورا ہو گیا کیونکہ حضرت موسی نے أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّار ( الخ: 30) کہہ کر ان صحابہ کے متعلق پیشگوئی فرمائی تھی، جو ہمارے نبی محمد مصطفی اللہ کے اسم محمد کے مظہر اور خدائے قہار کے جلال کا انعکاس تھے۔اور حضرت عیسی نے صحابہ کے ایک دوسرے گروہ اور ان ابرار کے امام کے متعلق اپنے قول كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ (الفتح: 30) میں اس روئیدگی کی پیشگوئی فرمائی تھی جو کسانوں کو خوش کرتی ہے۔یعنی اس مسیح کے متعلق جو رحم کرنے والے اور پردہ پوش (اسم) احمد کا مظہر اور رحیم و غفار خدا کے جمال کا منبع ہے۔پس موسی و عیسی ہر دو نے پیشگوئی میں ایسی صفات کی خبر دی تھی جو ان کی اپنی صفات ذاتیہ سے مناسبت رکھتی ہیں۔اور ہر ایک نے اس جماعت کو ( پیشگوئی کے لئے ) چُنا جن کے اخلاق اس کے اپنے پسندیدہ اخلاق کے مشابہ تھے۔پس حضرت موسی نے اپنے الفاظ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّار (الفتح: 30) میں ان صحابہ کی طرف اشارہ فرمایا جنہوں نے ہمارے نبی اکرم محمد مصطفی ﷺ کی صحبت پائی اور انہوں نے جنگ کے میدانوں میں سختی و مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔اللہ تعالیٰ کے جلال کو سیف قاطع کے ذریعہ ظاہر کیا۔اور خدائے قہار کے رسول کے اسم محمد کے ظل بن گئے۔آپ پر اللہ تعالیٰ اہل آسمان ، اور اہل زمین میں سے راستبازوں اور نیکو کاروں کا صلوٰۃ اور سلام ہو۔اور حضرت عیسی نے اپنے قول كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطأة (الفتح: 30) سے آخَرِيْنَ مِنْهُمْ (الجمعة 4 ) کی قوم اور ان کے امام مسیح کی طرف اشارہ کیا بلکہ اس کے احمد نام کا صراحت سے ذکر کر دیا۔اور اس مثال سے جو قرآن کریم میں آئی ہے آپ نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ مسیح موعود کسی بہت سخت چیز کی طرح نہیں بلکہ صرف نرم و نازک سبزہ کی طرح ظاہر ہو گا۔پھر یہ بھی قرآن کریم کے عجائبات میں سے ہے کہ اس نے احمد نام کا ذکر حضرت عیسی" سے نقل کیا اور محمد نام کا ذکر حضرت موسیٰ" سے نقل کیا تا کہ پڑھنے والے کو معلوم ہو جائے کہ جلالی نبی یعنی حضرت موسیٰ نے وہ نام چنا جو ان کی اپنی شان کے مطابق ہے یعنی اسم محمد جو جلالی نام ہے اور اسی طرح حضرت عیسی نے احمد کا نام چنا جو جمالی نام ہے کیونکہ وہ خود جمالی نبی تھے اور انہیں شدت اور جنگ سے کوئی حصہ نہیں دیا گیا تھا۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک نبی نے اپنے اپنے کامل مثیل کی طرف اشارہ کیا پس (اے مخاطب ) اس نکتہ کو یا درکھ کیونکہ یہ تجھے شکوک وشبہات سے نجات دے گا۔اور جلال اور جمال کے دونوں پہلوؤں کو آشکار کرے گا اور پردہ اٹھا کر حقیقت کو واضح کر دے گا اور جب تو اس بیان کو قبول کرلے تو ہر د قبال (کے شر ) سے خدا تعالیٰ کے حفظ وامان میں آجائے گا اور ہر گمراہی سے نجات پا جائے گا۔اعجاز مسیح - رخ جلد 18 صفحہ 125 تا128)