حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 95
95 چوتھا نشان قرآن کریم کے دقائق اور معارف کا ہے کیونکہ معارف قرآن اُس شخص کے سوا اور کسی پر نہیں گھل سکتے جس کی تطہیر ہو چکی ہو۔لا يَمَسُّهُ إِلَّا المُطَهَّرُونَ (الواقع : 80) میں نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ میرے مخالف بھی ایک سُورۃ کی تفسیر کریں اور میں بھی تفسیر کرتا ہوں۔پھر مقابلہ کر لیا جاوے، مگر کسی نے جرات نہیں کی۔محمد حسین وغیرہ نے تو یہ کہہ دیا کہ ان کو عربی کا صیغہ نہیں آتا اور جب کتابیں پیش کی گئیں تو بودے اور رکیک عذر کر کے ٹال دیا کہ یہ عربی تو اروی کچالو ہے۔مگر یہ نہ ہو سکا کہ ایک صفحہ ہی بنا کر پیش کر دیتا اور دکھا دیتا کہ عربی یہ ہے۔غرض یہ چارنشان ہیں جو خاص طور پر میری صداقت کے لئے مجھے ملے ہیں۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 183) پانچواں وہ امر جو مباہلہ کے بعد میرے لئے عزت کا موجب ہوا۔علم قرآن میں اتمام حجت ہے۔میں نے یہ علم پا کر تمام مخالفوں کو کیا عبدالحق کا گروہ اور کیا بطالوی کا گروہ غرض سب کو بلند آواز سے اس بات کے لئے مدعو کیا کہ مجھے علم حقائق اور معارف قرآن دیا گیا ہے۔تم لوگوں میں سے کسی کی مجال نہیں کہ میرے مقابل پر قرآن شریف کے حقائق و معارف بیان کر سکے۔سو اس اعلان کے بعد میرے مقابل ان میں سے کوئی بھی نہ آیا۔اور اپنی جہالت پر جو تمام ذلتوں کی جڑ ہے انہوں نے مہر لگا دی۔سو یہ سب کچھ مباہلہ کے بعد ہوا۔اور اسی زمانہ میں کتاب کرامات الصادقین لکھی گئی۔اس کرامت کے مقابل پر کوئی شخص ایک حرف بھی نہ لکھ سکا۔تو کیا اب تک عبد الحق اور اس کی جماعت ذلیل نہ ہوئی۔اور کیا اب تک یہ ثابت نہ ہوا کہ مباہلہ کے بعد یہ عزت خدا نے مجھے دی۔انجام آتھم۔رخ جلد 11 صفحہ 311 حاشیہ ) ان تمام الہامات میں یہ پیشگوئی تھی کہ خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے اور میرے ہی ذریعہ سے دین اسلام کی سچائی اور تمام مخالف دینوں کا باطل ہونا ثابت کر دے گا۔سو آج وہ پیشگوئی پوری ہوئی۔کیونکہ میرے مقابل پر کسی مخالف کو تاب و تواں نہیں کہ اپنے دین کی سچائی ثابت کر سکے میرے ہاتھ سے آسمانی نشان ظاہر ہو رہے ہیں اور میرے قلم سے قرآنی حقائق اور معارف چمک رہے ہیں۔اٹھو اور تمام دنیا میں تلاش کرو کہ کیا کوئی عیسائیوں میں سے یاسکھوں میں سے یا یہودیوں میں سے یا کسی اور فرقہ میں سے کوئی ایسا ہے کہ آسمانی نشانوں کے دکھلانے اور معارف اور حقائق کے بیان کرنے میں میرا مقابلہ کر سکے میں وہی ہوں جسکی نسبت یہ حدیث صحاح میں موجود ہے کہ اس کے عہد میں تمام ملتیں ہلاک ہو جائیں گی مگر اسلام کہ وہ ایسا چمکے گا جو درمیانی زمانوں میں کبھی نہیں چکا ہو گا۔تریاق القلوب۔رخ جلد 15 صفحہ 267) علیم قرآں۔علم آں طیب زباں علیم آں طیب زباں علم غیب از وحی ءِ خلاق جہاں قرآن کا علم اور اس پاک کلام کا علم اور الہام الہی سے غیب کا علم چوں نشا نها داده اند ہر ہمیچوں شاہداں استادہ بہ تین علم مجھے نشان کے طور پر دیئے گئے ہیں اور تینوں بطور گواہ میری تائید میں کھڑے ہیں سم اند ( در نمین فارسی ) ( تحفه غزنویہ۔رخ جلد 15 صفحہ 533)