حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 96 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 96

96 الہام حضرت اقدس دعوت مقابلہ معجزات میں اور مجھے آگ سے مت ڈراؤ۔کیونکہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام لے ہے۔(اربعین نمبر 3 صفحہ 37 38) یہ فقرہ بطور حکایت میری طرف سے خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔‘“ (اربعین نمبر 3 صفحہ 38 حاشیہ ) عرض کیا گیا کہ آریہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آگ میں ڈالے جانے پر اعتراض کرتے ہیں تو فرمایا:۔ان لوگوں کے اعتراض کی جڑ معجزات اور خوارق پر نکتہ چینی کرنا ہے۔ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے دعویٰ کرتے ہیں اور اسی لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں مبعوث کیا ہے کہ قرآن کریم میں جس قدر معجزات اور خوارق انبیاء کے مذکور ہوئے ہیں ان کو خود دکھا کر قران کی حقانیت کا ثبوت دیں۔ہم دعوی کرتے ہیں کہ اگر دنیا کی کوئی قوم ہمیں آگ میں ڈالے یا کسی اور خطرناک عذاب اور مصیبت میں مبتلا کرنا چاہے تو خدا تعالیٰ اپنے ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 479-480) وعدہ کے موافق ضرور ہمیں محفوظ رکھے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔نشاں کو دیکھ کر انکار کب تک پیش جائے گا ارے اک اور جھوٹوں پر قیامت آنیوالی ہے یہ کیا عادت ہے کیوں کچی گواہی کو چھپاتا ہے تری اک روزاے گستاخ شامت آنیوالی ہے ترے مکروں سے اے جاہل مرا نقصاں نہیں ہرگز کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر سلامت آنیوالی ہے اگر تیرا بھی کچھ دیں ہے بدل دے جو میں کہتا ہوں کہ عزت مجھ کو اور تجھ پر ملامت آنیوالی ہے طریق مقابلہ ( حقیقت الوحی۔رخ جلد 22 صفحہ 595) علامات چہارم یعنے معارف قرآنی کا کھلنا ہمیں احسن انتظام یہ ہے کہ ہر یک فریق چند آیات قرآنی کے معارف و حقائق ولطائف لکھ کر انجمن میں مین جلسہ عام میں سناوے پھر اگر جو کچھ کسی فریق نے لکھا ہے کسی پہلی تفسیر کی کتاب میں ثابت ہو جائے تو یہ شخص محض ناقل متصور ہو کر مورد عتاب ہو لیکن اگر اسکے بیان کردہ حقائق و معارف قرآنی جونی حد ذاتها صحیح اور غیر مخدوش بھی ہوں ایسے جدید اور نو وارد ہوں جو پہلے مفسرین کے ذہن انکی طرف سبقت نہ لے گئے ہوں اور با این ہمہ وہ معنے مـن كــل الوجوہ تکلف سے پاک اور قرآن کریم کے اعجاز اور کمال عظمت اور شان کو ظاہر کرتے ہوں اور اپنے اندر ایک جلالت اور ہیبت اور سچائی کا نور رکھتے ہوں تو سمجھنا چاہیے کہ وہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہیں جو خداوند تعالیٰ نے اپنے مقبول کی عزت اور قبولیت اور قابلیت ظاہر کرنے کیلئے اپنے لدنی علم سے عطافرمائی ہیں۔یہ ہر چہار محک امتحان جو میں نے لکھی ہیں یہ ایسی سیدھی اور صاف ہیں کہ جو شخص غور کے ساتھ انکوز برنر لا ئیگاوہ بلاشبہ اس بات کو قبول کرلیگا کہ متخاصمین کے فیصلہ کیلئے اس سے صاف اور سہل تر اور کوئی روحانی طریق نہیں اور میں اقرار کرتا ہوں اور اللہ جلشانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر میں اس مقابلہ میں مغلوب ہو گیا تو اپنے ناحق پر ہونے کا خود اقرار شائع کر دونگا۔اور پھر میاں نذیر حسین صاحب اور شیخ بٹالوی کی تکفیر اور مفتری کہنے کی حاجت نہیں رہے گی۔(آسانی فیصلہ رخ جلد 4 صفحہ 330)