حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 94
94 مذہب وہی مذہب ہے جو زندہ مذہب ہو اور زندگی کی روح اپنے اندر رکھتا ہو اور زندہ خدا سے ملاتا ہو۔اور میں صرف یہی دعویٰ نہیں کرتا کہ خدا تعالیٰ کی پاک وحی سے غیب کی باتیں میرے پر کھلتی ہیں اور خارق عادت امر ظاہر ہوتے ہیں بلکہ یہ بھی کہتا ہوں کہ جو شخص دل کو پاک کر کے اور خدا اور اس کے رسول پر سچی محبت رکھ کر میری پیروی کرے گا وہ بھی خدا تعالیٰ سے یہ نعمت پائے گا۔مگر یاد رکھو کہ تمام مخالفوں کے لئے یہ دروازہ بند ہے اور اگر دروازہ بند نہیں ہے تو کوئی آسمانی نشانوں میں مجھ سے مقابلہ کرے۔اور یا درکھیں کہ ہر گز نہیں کر سکیں گے۔پس یہ اسلامی حقیت اور میری حقانیت کی ایک زندہ دلیل ہے۔ختم ہوا پہلانمبر اربعین کا۔والسلام علی من اتبع الہدیٰ المشتهر مرزا غلام احمدمسیح موعود از قادیان 23 جولائی 1900ء اربعین نمبر 1۔رخ جلد 17 صفحہ 346) آؤ لوگو! کہ یہیں نورِ خدا پاؤ گے !! لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے الہام حضرت اقدس در نمین اردو ) ( آئینہ کمالات اسلام۔رخ جلد 5 صفحہ 225) بارھویں پیشگوئی جو براہین احمدیہ کے صفحہ 238 اور 239 میں لکھی ہے علم قرآن ہے اس پیشگوئی کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تجھ کو علم قرآن دیا گیا ہے ایسا علم جو باطل کو نیست کریگا۔اور اسی پیشگوئی میں فرمایا کہ دوانسان ہیں جسکو بہت ہی برکت دی گئی۔ایک وہ معلم جس کا نام محمد مصطفی یہ ہے اور ایک یہ متعلم یعنی اس کتاب کا لکھنے والا۔اور یہ اس آیت کی طرف بھی اشارہ ہے جو قرآن شریف میں اللہ جلشانہ فرماتا ہے۔واخرین مـنـهـم لـمـا يلحقوا بهم - (الجمعۃ : 4 ) یعنی اس نبی کے اور شاگرد بھی ہیں جو ہنوز ظاہر نہیں ہوئے اور آخری زمانہ میں انکا ظہور ہوگا۔یہ آیت اسی عاجز کی طرف اشارہ تھا کیونکہ جیسا کہ ابھی الہام میں ذکر ہو چکا ہے یہ عاجز روحانی طور پر آنحضرت ﷺ کے شاگردوں میں سے ہے۔اور یہ پیشگوئی جو قرآنی تعلیم کی طرف اشارہ فرماتی ہے۔اس کی تصدیق کیلئے کتاب کرامات الصادقین لکھی گئی تھی۔جسکی طرف کسی مخالف نے رُخ نہیں کیا۔اور مجھے اس خدا کی قسم ہے جسکے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مجھے قرآن کے حقائق اور معارف کے سمجھنے میں ہر ایک روح پر غلبہ دیا گیا ہے اور اگر کوئی مولوی مخالف میرے مقابل پر آتا جیسا کہ میں نے قرآنی تفسیر کے لئے بار بارانکو بلایا تو خدا اسکو ذلیل اور شرمندہ کرتا۔سو ہم قرآن جو مجھ کو عطا کیا گیا یہ الہ جلشانہ کا ایک نشان ہے میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ عنقریب دنیا دیکھے گی کہ میں اس بیان میں سچا ہوں۔(سراج منیر۔رخ جلد 12 صفحہ 41-40)