حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 93
93 اور اگر اب بھی اس کتاب کے پڑھنے کے بعد شک ہے تو آؤ آزمالو خدا کس کے ساتھ ہے اے میرے مخالف الرائے مولویو اور صوفیو! اور سجادہ نشینو! جو ملکفر اور مکذب ہو مجھے یقین دلایا گیا ہے کہ اگر آپ لوگ مل جُل کر یا ایک ایک آپ میں سے اُن آسمانی نشانوں میں میرا مقابلہ کرنا چاہیں جو اولیاء الرحمن کے لازم حال ہو ا کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ تمہیں شرمندہ کر یگا اور تمہارے پردوں کو پھاڑ دیگا اور اُسوقت تم دیکھو گے کہ وہ میرے ساتھ ہے کیا کوئی تم میں ہے؟ کہ اس آزمائش کے لئے میدان میں آوے اور عام اعلان اخباروں کے ذریعہ سے دیکر ان تعلقات قبولیت میں جو میرا رب میرے ساتھ رکھتا ہے اپنے تعلقات کا موازنہ کرے۔یاد رکھو کہ خدا صادقوں کا مددگار ہے وہ اسی کی مدد کر یگا جسکو وہ سچا جانتا ہے۔چالاکیوں سے باز آ جاؤ کہ وہ نزدیک ہے۔کیا تم اُس سے لڑو گے؟ کیا کوئی متکبرانہ اچھلنے سے در حقیقت اُونچا ہو سکتا ہے کیا صرف زبان کی تیزیوں سے سچائی کو کاٹ دو گے اُس ذات سے ڈرو جس کا غضب سب غضوں سے بڑھ کر ہے۔إِنَّهُ مَنْ يَّأْتِ رَبَّهُ مَجْرِماً فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيْهَا وَلَا يَحْيَى الناصح خاکسار غلام احمد قادیانی از لودھیانه محله اقبال گنج (ازالہ اوھام - رخ جلد 3 صفحہ 102) ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار ( در مشین اردو صفحہ 128 ) ( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 137) مردِ میداں باش و حال ما ہیں نصرت آں ذوالجلال ما ہیں مرد میدان بن اور ہمارا حال دیکھ۔نیز ہمارے اس ذوالجلال کی مدددیکھ طعنہ ہا بے امتحاں نامردی است امتحان کن پس مآل ما ببیں بغیر امتحان کے طعنے دینا نا مردی ہے۔امتحان کر پھر ہمارا نتیجہ اور انجام دیکھ (حقیقۃ الوحی۔رخ جلد 22 صفحہ 599) پھر ایک اور پیشگوئی نشان الہی ہے جو براہین کے صفحہ 238 میں درج ہے۔اور وہ یہ ہے الرحمن علم القرآن۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے علم قرآن کا وعدہ دیا تھا۔سو اس وعدہ کو ایسے طور سے پورا کیا کہ اب کسی کو معارف قرآنی میں مقابلہ کی طاقت نہیں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر کوئی مولوی اس ملک کے تمام مولویوں میں سے معارف قرآنی میں مجھ سے مقابلہ کرنا چاہے اور کسی سورۃ کی ایک تفسیر میں لکھوں اور ایک کوئی اور مخالف لکھے تو وہ نہایت ذلیل ہوگا اور مقابلہ نہیں کر سکے گا۔اور یہی وجہ ہے کہ باوجود اصرار کے مولویوں نے اس طرف رخ نہیں کیا۔پس یہ ایک عظیم الشان نشان ہے مگر ان کیلئے جو انصاف اور ایمان رکھتے ہیں۔انجام آتھم۔رخ جلد 11 صفحہ 293-291)