حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page xii of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page xii

ix اس لئے جس قاری نے اس کتاب کو جستہ جستہ پڑھنا ہے۔اور اس کا التزاما مکمل مطالعہ نہیں کرنا اس کے لئے یہ امر بہت فائدہ مند ہوگا ابتدا ہی میں یہ واضح کر دیا جائے کہ: اوّل حضرت اقدس نے نزول معارف قرآن کے بارے میں کیا دستور خداوندی بیان کیا ہے۔اور دوم یہ کہ اللہ تعالیٰ نے کن مقاصد کے حصول کے لئے آپ کو قرآن کریم کے دقائق اور معارف عطا کئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی جناب سے جو قرآن کریم کا عرفان اور اس کا فہم و ادراک حاصل ہوا ہے۔اس کے نزول کے محرکات اور مقاصد کو اگر نہایت درجہ اختصار سے بیان کرنا مقصود ہو تو اس کی صورت اسی طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ اس مضمون میں اول اس بنیادی اصول کو بیان کیا جائے جسکو حضرت اقدس نے نہ صرف فہم قرآن بلکہ قرآن کریم کے نزول کے بارے میں سنت اللہ کے طور پر بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔اصل حقیقت وحی کی یہ ہے جو نزول وحی کا بغیر کسی موجب کے جو مستدعی نزول وحی ہو ہر گز نہیں ہوتا۔بلکہ ضرورت کے پیش آجانے کے بعد ہوتا ہے۔اور جیسی جیسی ضرورتیں پیش آتی ہیں بمطابق ان کے وحی بھی نازل ہوتی ہے کیونکہ وحی کے باب میں یہی عادت اللہ جاری ہے کہ جب تک باعث محرک وحی پیدا نہ ہو لے تب تک وحی نازل نہیں ہوتی۔اور خود ظاہر بھی ہے جو بغیر موجودگی کسی باعث کے جو تحریک وحی کی کرتا ہو یونہی بلا موجب وحی کا نازل ہو جانا ایک بے فائدہ کام ہے جو خداوند تعالیٰ کی طرف جو حکیم مطلق ہے اور ہر یک کام برعایت حکمت اور مصلحت اور مقتضاء وقت کے کرتا ہے منسوب نہیں ہو سکتا۔(براہین احمدیہ - ر- خ - جلد 1 صفحہ 75 حاشیہ (2) اس اصل الاصول کی صداقت کے ثبوت میں آپ سورۃ الروم کی آیت:42 ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ۔۔۔۔الآية کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔" آپ کی آمد کا وہ وقت تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے خود ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ۔۔۔۔الآية (الروم : 42) سے بیان کیا ہے یعنی نہ خشکی میں امن تھا نہ تری میں۔مراد اس سے یہ ہے کہ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سب بگڑ چکے تھے اور قسم قسم کے فساد اور خرابیاں ان میں پھیلی ہوئی تھیں۔گویا زمانہ کی حالت بالطبع تقاضا کرتی تھی کہ اس وقت ایک زبردست ہادی اور مصلح پیدا ہو۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 578) اس بنیادی اصول کو سورۃ بنی اسرائیل کی آیت 106 و با الْحَقِّ اَنْزَلْنَهُ وَ بِاالْحَقِّ نُزِلَ۔۔۔کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔اور ہم نے اس کو ضرورت حقہ کیسا تھ اتارا ہے۔اور ضرورت حقہ کیساتھ یہ اترا ہے۔یہ نہیں کہ فضول اور بے فائدہ اور بے وقت نازل ہوا ہے۔“ ایک اور مقام پر اس اصل کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔خدائے تعالیٰ کی حقانی شریعت اور تعلیم کا نازل ہونا ضرورات حلقہ سے وابستہ ہے۔پس جس جگہ ضرورات حلقہ پیدا ہوگئیں اور زمانہ کی اصلاح کیلئے واجب معلوم ہوا کہ کلام الہی نازل ہو۔اسی زمانہ میں خدائے تعالیٰ (براہین احمدیہ - رخ جلد 1 صفحہ 416 حاشیہ نمبر (11) نے جو حکیم مطلق ہے اپنے کلام کو نازل کیا۔