حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page xi
viii اس پیش لفظ کو تحریر کرنے سے یہ مقصود نہیں کہ ادبی اور کتابی دستور کے مطابق حضرت اقدس کے عظیم الشان عرفانِ قرآن کے بارے میں ایک رسمی تعارف پیش کیا جائے کیونکہ میں اس حقیقت کو خوب سمجھتا ہوں کہ مرسلین باری تعالیٰ کے علمی اور روحانی افاضات کا حقیقی تعارف تو اول خدا تعالیٰ ہی فرماتا ہے جس نے ان کو روحانی معارف عطا کئے ہوتے ہیں۔اور دوسرے درجے پر مرسلین باری تعالیٰ خود اللہ تعالیٰ کے حکم اور اذن سے ان مناصب عالیہ کا اعلان کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کو عطا کئے جاتے ہیں۔جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے۔غیر را هرگز نمی باشد گذر در راه حق ہر کہ آید ز آسمان او راز آن یار آورد ترجمہ: (عرفان باری تعالیٰ کی راہ پر غیر کا گزر نہیں ہو سکتا۔جو آسمان سے آتا ہے وہی اس محبوب کے راز لیکر آتا ہے ) کچی بات یہی ہے۔آپ کا عرفان قرآن راہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی باتیں ہیں۔اور ان کے بارے میں وہی کچھ کہہ سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے۔اس صداقت کی روشنی میں ہم نے آپ کی تفہیمات قرآنیہ کے حقیقی منصب کو ظاہر کرنے کے لئے اس کتاب کا اول باب " فہم قرآن اور منصب حضرت اقدس“ کے عنوان پر قائم کیا ہے تاکہ ابتداء میں ہی ظاہر ہو جائے کہ عرفان قرآن کے تعلق میں اللہ تعالیٰ نے آپ حضرت کو کس منصب اور مقام پر فائز فرمایا ہے اور پھر ایسا ہو کہ آپ اپنے عرفان قرآن کی عظمت اور شان اللہ تعالیٰ کی وحی اور تائیدات کے ساتھ خود ہی اپنے الفاظ میں بیان کریں۔یہی اس تالیف کو مرتب کرنے کا دستور ہے کہ حضرت اقدس کے سوا کسی اور کے کلام کا اس میں عمل دخل نہ ہو۔اس دستور کی پاسداری میں ہم جو گزارشات پیش لفظ کے طور پر کرنا چاہتے ہیں ان کو بھی حضرت اقدس کے اقتباسات کی صورت میں پیش کریں گے۔ہمارا کام صرف اس قدر ہوگا کہ ان کو معنوی ترتیب کے مطابق درج کر دیا جائے۔دراصل پیش لفظ کے طور پر چند امور کو بیان کرنے کی ضرورت اس لئے محسوس کی گئی کہ خاکسار نے خیال کیا کہ اقتباسات کی صورت میں جو مضامین بیان ہوتے ہیں۔ان میں ہزار کوشش پر بھی معنوی تسلسل قائم نہیں رہتا۔اس لئے بہت سے اہم موضوعات جو دراصل مندرجات کتاب کی جان اور روح رواں ہوتے ہیں قاری کے مطالعہ میں نہیں آتے یا وہ ان پر سرسری نظر ڈال کر گذر جاتا ہے اور کتاب کے مرکزی نکتہ کو اخذ نہ کرنے کی وجہ سے کتاب کی حقیقی افادیت سے محروم ہو جاتا ہے۔