حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page xiii
X اس مقام تک عمومی طور پر جو بھی تعلیم خداوندی انسان کے لئے نازل ہوئی ہے اس کے نزول کا دستور خداوندی اور خصوصاً قرآن کریم کی وحی کے نازل ہونے کے محرکات اور موجبات کا بیان ہوا ہے۔اس کی ترتیب اس طرح سے ہے :۔اول یہ کہ بغیر کسی محرک کے خدا تعالیٰ کی وحی اور اس کی تعلیم نازل نہیں ہوتی۔دوم یہ کہ محرک نزول وحی ضرورت حلقہ ہوتی ہے۔اور سوم یہ کہ قرآن کریم کے نازل ہونے کا محرک اور ضرورت آنحضرت صلعم کے وقت کا روحانی انحطاط اور کامل گمراہی تھی۔اب یہ دیکھنا ہے کہ قرآن کریم کے معارف کے نزول کے بارے میں حضرت اقدس نے کیا دستور خداوندی سنت اللہ کے طور پر پیش کیا ہے۔اس مضمون میں آپ نے اول قدم پر اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ قرآن کا نزول اور رسول اکرم ﷺ کی بعثت كَافَّةً لِلنَّاسِ یعنی تمام انسانوں کے لئے ہوئی ہے اس لئے یہ ضروری امر ہے کہ قرآن کریم کی بنیادی تعلیمات عام فہم اور آسان ہوں تا کہ ہر قابلیت کا انسان ان کو سمجھ سکے۔یعنی یہ کہ قرآن کریم کے پیغام سمجھنے کے لئے اعلی علمی اور ذہنی قابلیت شرط نہ ہو۔بلکہ کم از کم استعداد ذہنی رکھنے والا انسان بھی اس سے راہ نمائی حاصل کر سکے۔سورۃ آل عمران کی آیت 65 قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَبِ تَعَالَوْا إِلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا الله الآية کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔قرآنی تعلیم کا دوسرا کمال۔کمال تفہیم ہے۔یعنی اس نے ان تمام راہوں کو سمجھانے کے لئے اختیار کیا جنگ مقدس - ر- خ - جلد 6 صفحہ 289) ہے جو تصور میں آسکتے ہیں۔اگر عامی ہے تو اپنی موٹی عقل کے موافق اس سے فائدہ اُٹھا تا ہے اور اگر فلسفی ہے تو اپنے دقیق خیال کے مطابق اس سے صداقتیں حاصل کرتا ہے۔“ اسی مضمون کو ایک اور مقام پر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو عام تبلیغ کا حق ادا نہ ہو سکتا۔دو سورۃ واقعہ کی آیت 76 فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ۔۔۔الآية کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اگر علم قرآن خاص بندوں سے مخصوص کیا گیا ہے تو دوسروں سے نافرمانی کی حالت میں کیونکر مواخذہ ہوگا۔کیونکہ قرآن کریم کی وہ تعلیم جو مدار ایمان ہے وہ عام فہم ہے۔اس کو ایک کافر بھی سمجھ سکتا ہے۔اور ایسی نہیں ہے کہ کسی پڑھنے والے سے مخفی رہ سکے۔وہ اگر عام فہم نہ ہوتی تو کارخانہ تبلیغ ناقص رہ جاتا۔(کرامات الصادقین۔رخ۔جلد 7 صفحہ 53)