حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 900
900 مقام شہادت شہید کا کمال یہ ہے کہ مصیبتوں اور دکھوں اور ابتلاؤں کے وقت میں ایسی قوت ایمانی اور قوت اخلاقی اور ثابت قدمی دکھلاوے کہ جو خارق عادت ہونے کی وجہ سے بطور نشان کے ہو جائے تریاق القلوب۔ر۔خ۔جلد 15 صفحہ 516) مرتبہ شہادت سے وہ مرتبہ مراد ہے جبکہ انسان اپنی قوت ایمان سے اس قدر اپنے خدا اور روز جزا پر یقین کر لیتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ کو اپنی آنکھ سے دیکھنے لگتا ہے تب اس یقین کی برکت سے اعمال صالحہ کی مرارت اور شیخی دور ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی ہر ایک قضاء وقدر بباعث موافقت کے شہد کی طرح دل میں نازل ہوتی اور تمام محن سینہ کو حلاوت سے بھر دیتی ہے اور ہر ایک ایلام انعام کے رنگ میں دکھائی دیتا ہے۔سوشہید اس شخص کو کہا جاتا ہے وہ قوت ایمانی کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا مشاہدہ کرتا ہوا اور اس کے تلخ قضا و قدر سے شہد شیریں کی طرح لذت اٹھاتا ہے اور اسی معنے کے رو سے شہید کہلاتا ہے۔اور یہ مرتبہ کامل مومن کے لیے بطور نشان کے ہے۔تریاق القلوب۔ر۔خ۔جلد 15 صفحہ 421-420) ہماں یہ کہ جان در ره او فشانم جہاں را چه نقصاں اگر من نمانم یہی بہتر ہے کہ میں اس کی راہ میں جان قربان کر دوں۔اگر میں نہ رہوں تو دنیا کا کیا نقصان ہے۔آسمانی فیصلہ۔رخ۔جلد 4 صفحہ 340) عام لوگوں نے شہید کے معنی صرف یہی سمجھ رکھے ہیں کہ جو شخص لڑائی میں مارا گیا۔یا دریا میں ڈوب گیا۔یا و با میں مرگیا وغیرہ مگر میں کہتا ہوں کہ اسی پر اکتفا کرنا اور اسی حد تک اس کو محدود رکھنا مومن کی شان سے بعید ہے۔شہید اصل میں وہ شخص ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ سے استقامت اور سکینت کی قوت پاتا ہے اور کوئی زلزلہ اور حادثہ اس کو متغیر نہیں کر سکتا وہ مصیبتوں اور مشکلات میں سینہ سپر رہتا ہے یہاں تک کہ اگر محض خدا تعالیٰ کے لیے اس کو جان بھی دینی پڑے تو فوق العادت استقلال اس کو ملتا ہے اور وہ بدوں کسی قسم کا رنج یا حسرت محسوس کیے اپنا سر رکھ دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ بار بار مجھے زندگی ملے اور بار بار اس کو اللہ کی راہ میں دوں ایک ایسی لذت اور سرور اُس کی روح میں ہوتا ہے کہ ہر تلوار جو اس کے بدن پر پڑتی ہے اور ہر ضرب جو ان کو پیس ڈالے ان کو پہنچتی ہے وہ ان کو ایک نئی زندگی نئی مسرت اور تازگی عطا کرتی ہے یہ ہیں شہید کے معنی۔پھر یہ لفظ شہد سے بھی نکلا ہے عبادت شاقہ جو لوگ برداشت کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں ہر ایک تلخی اور کدورت کو جھیلتے ہیں اور جھیلنے کے لیے طیار ہو جاتے ہیں وہ شہد کی طرح ایک شیرینی اور حلاوت پاتے ہیں اور جیسے شهد فِيهِ شِفَاء لِلنَّاسِ (النحل : 70) کا مصداق ہے یہ لوگ بھی ایک تریاق ہوتے ہیں۔ان کی صحبت میں آنے والے بہت سے امراض سے نجات پا جاتے ہیں۔اور پھر شہید اس درجہ اور مقام کا نام بھی ہے جہاں انسان اپنے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کو دیکھتا ہے یا کم از کم خدا کو دیکھتا ہوا یقین کرتا ہے اس کا نام احسان بھی ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 276)