حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 899 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 899

899 اسی طرح پر جب عام طور پر انسان راستی اور راست بازی سے محبت کرتا ہے اور صدق کو اپنا شعار بنالیتا ہے تو و ہی راستی اس عظیم الشان صدق کو کھینچ لاتی ہے جو خدا تعالیٰ کو دکھا دیتی ہے اور وہ صدق مجسم قرآن کریم ہے اور پیکر صدق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ کے مامور و مرسل حق اور صدق ہوتے ہیں پس وہ اس صدق تک پہنچ جاتے ہیں تب ان کی آنکھ کھلتی ہے اور ایک خاص بصیرت ملتی ہے جس سے معارف قرآنی کھلنے لگتے ہیں۔میں اس بات کے ماننے کے لئے کبھی طیار نہیں ہوں کہ وہ شخص جو صدق سے محبت نہیں رکھتا اور راست بازی کو اپنا شعار نہیں بنا تا وہ قرآن کریم کے معارف کو سمجھ بھی سکے اس واسطے کہ اس کے قلب کو مناسبت ہی نہیں یہ تو صدق کا چشمہ ہے اس سے وہی پی سکتا ہے جس کو صدق سے محبت ہو۔(ملفوظات جلد اول 243) ( ملفوظات جلد اول صفحہ 276) صدق کامل اس وقت تک جذب نہیں ہوتا جب تک توبتہ النصوح کے ساتھ صدق کو نہ کھینچے قرآن کریم تمام صداقتوں کا مجموعہ اور صدق تام ہے جب تک خود صادق نہ بنے صدق کے کمال اور مراتب سے کیونکر واقف ہوسکتا ہے۔صدیق کے مرتبہ پر قرآن کریم کی معرفت اور اس سے محبت اور اس کے نکات و حقائق پر اطلاع ملتی ہے کیونکہ کذب کذب کو کھینچتا ہے اس لیے کبھی بھی کا ذب قرآنی معارف اور حقائق سے آگاہ نہیں ہوسکتا یہی وجہ ہے کہ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ فرمایا گیا ہے۔(الواقعة : 80) من در حریم قدس چراغ صداقتم دستش محافظ است زہر بادِ صرصرم میں درگاہ قدس میں صداقت کا چراغ ہوں۔اسی کا ہاتھ ہر تیز ہوا سے میری حفاظت کرنے والا ہے۔ہر دم فلک شہادتِ صدقم ہے دہر زینم کدام غم کہ زمیں گشت منکرم آسمان ہر وقت میری سچائی کی گواہی دیتا ہے پھر مجھے اس بات کا کیا غم کہ اہل زمین مجھے نہیں مانتے۔( در شین فارسی مترجم صفحه 167-166 ) (ازالہ اوہام - ر - خ - جلد 3 صفحہ 185) مقام صالحیت صالحین وہ ہوتے ہیں جن کے اندر سے ہر قسم کا فساد جاتا رہے جیسے تندرست آدمی جب ہوتا ہے تو اس کی زبان کا مزہ بھی درست ہوتا ہے پورے اعتدال کی حالت میں تندرست کہلاتا ہے کسی قسم کا فساد اندر نہیں رہتا۔اسی طرح پر صالحین کے اندر کسی قسم کی روحانی مرض نہیں ہوتی اور کوئی مادہ فساد کا نہیں ہوتا اس کا کمال اپنے نفس میں نفی ( ملفوظات جلد اول صفحہ 342) کے وقت ہے اور شہید۔صدیق۔نبی کا کمال ثبوتی ہے۔صلاح کی حالت میں انسان کو ضروری ہوتا ہے کہ ہر ایک قسم کے فساد سے خواہ وہ عقائد کے متعلق ہو یا اعمال کے متعلق پاک ہو جیسے انسان کا بدن صلاحیت کی حالت اس وقت رکھتا ہے جبکہ سب اخلاط اعتدال کی حالت پر ہوں اور کوئی کم زیادہ نہ ہولیکن اگر کوئی خلط بھی بڑھ جائے تو جسم بیمار ہو جاتا ہے اسی طرح پر روح کی صلاحیت کا مدار بھی اعتدال پر ہے اسی کا نام قرآن شریف کی اصطلاح میں صراط مستقیم ہے صلاح کی حالت میں انسان محض خدا کا ہو جاتا ہے جیسے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حالت تھی اور رفتہ رفتہ صالح انسان ترقی کرتا ہوا مطمئنہ کے مقام پر پہنچ جاتا ہے اور یہاں ہی اس کا انشراح صدر ہوتا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 120-119)