حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 901 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 901

901 يارب مرا بہر قدمم استوار دار واں روز خود مبادکہ عہدِ اے رب مجھے ہر قدم پر مضبوط رکھ اور ایسا کوئی دن نہ آئے کہ میں تیرا عہد توڑوں۔در کوئے تو اگر سر عشاق را زنند اول کسیکه لاف تعشق زند منم! تیرے کوچہ میں عاشقوں کے سرا تارے جائیں تو سب سے پہلے جو عشق کا دعویٰ کرے گا وہ میں ہوں گا۔زمانے قتیل تازه بخواست غازه روئے او دم شهداست ہر وقت وہ ایک نیا قتیل چاہتا ہے اس کے چہرہ کا غازہ شہیدوں کا خون ہوتا ہے۔ہر آئینہ کمالات اسلام۔ر۔خ۔جلد 5 صفحہ 658) رفته رسید ایں سعادت چو بود قسمت رفته رفته سعادت چونکہ ہماری قسمت میں تھی رفتہ رفتہ ہماری نوبت بھی آ پہنچی۔کربلا بست سیر ہر صد حسین است برگاہ ہے۔کئی سوحسین میرے گریبان کے اندر ہیں۔در نوبت گریبانم ( نزول مسیح - ر-خ- جلد 18 صفحہ 477) مقامات۔مجموعی اعتبار سے منعم علیہم لوگ چار قسم کے لوگ ہوتے ہیں نبی۔صدیق۔شہدا اور صالح۔انبیاء علیہم السلام میں چاروں شانیں جمع ہوتی ہیں کیونکہ یہ اعلیٰ کمال ہے۔ہر ایک انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کمالات کے حاصل کرنے کے لیے جہاں مجاہدہ صحیحہ کی ضرورت ہے اس طریق پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے دکھایا ہے کوشش کرے۔۔۔اور ہماری جماعت کو خصوصیت سے اس طرف متوجہ ہونا چاہیئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کے قائم کرنے سے یہی چاہا ہے کہ وہ ایسی جماعت تیار کرے جیسی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کی تھی تا کہ اس آخری زمانہ میں یہ جماعت قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور عظمت پر بطور گواہ ٹھہرے۔( ملفوظات جلد اول صفحه 237-236) مقام ولایت أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔(يونس: 63) ولی کیا ہوتے ہیں یہی صفات تو اولیا کے ہوتے ہیں۔ان کی آنکھ۔ہاتھ۔پاؤں غرض کوئی عضو ہو منشاء الہی کے خلاف حرکت نہیں کرتے۔خدا کی عظمت کا بوجھ ان پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ خدا کی زیارت کے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں جاسکتے۔پس تم بھی کوشش کرو۔خدا بخیل نہیں۔ہر کہ عارف تر است ترساں تر ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 105) ولی بننے کیلئے ابتلا ضروری ہیں۔بہت سے لوگ یہاں آتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پھونک مار کر عرش پر پہنچ جائیں اور واصلین سے ہو جاویں۔ایسے لوگ ٹھٹھا کرتے ہیں وہ انبیاء کے حالات کو دیکھیں یہ غلطی ہے جو کہا جاتا ہے کہ کسی ولی کے پاس جا کر صد ہاولی فی الفور بن گئے۔اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے: أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَتُونَ (العنکبوت : 3 ) جیتک انسان آزمایا نہ جاوے فتن میں نہ ڈالا جاوے وہ کب ولی بن سکتا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 16)