حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 885 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 885

885 وَاسْتَغْفِرُوا اللهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (البقره: 200) استغفار کے معنی یہ ہیں کہ خدا سے اپنے گذشتہ جرائم اور معاصی کی سزا سے حفاظت چاہنا۔اور آئیندہ گناہوں کے سرزد ہونے سے حفاظت مانگنا۔استغفار انبیاء بھی کیا کرتے ہیں اور عوام بھی۔بعض نادان پادریوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار پر اعتراض کیا ہے اور لکھا ہے ان کے استغفار کرنے سے نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گناہ کا ہونا ثابت ہوتا ہے۔یہ نادان اتنا نہیں سمجھتے کہ استغفار تو ایک اعلیٰ صفت ہے۔انسان فطرتاً ایسا بنا ہے کہ کمزوری اور ضعف اس کا فطری تقاضا ہے۔انبیاء اس فطرتی کمزوری اور ضعف بشریت سے خوب واقف ہوتے ہیں۔لہذا وہ دعا کرتے ہیں کہ یا الہی تو ہماری ایسی حفاظت کر کہ وہ بشری کمزوریاں ظہور پذیر ہی نہ ہوں۔غفر کہتے ہیں ڈھکنے کو۔اصل بات یہی ہے کہ جو طاقت خدا کو ہے وہ نہ کسی نبی کو ہے نہ ولی کو اور نہ رسول کو۔کوئی دعوی نہیں کر سکتا کہ میں اپنی طاقت سے گناہ سے بچ سکتا ہوں۔پس انبیاء بھی حفاظت کے واسطے خدا کے محتاج ہیں پس اظہار عبودیت کے واسطے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور انبیاء کی طرح '1۔۔۔۔۔۔۔اپنی حفاظت خدا سے مانگا کرتے تھے۔استغفار ایک عربی لفظ ہے۔اس کے معنے ہیں۔طلب مغفرت کرنا۔کہ یا الہی ہم سے پہلے جو گناہ سرزد ہو چکے ہیں۔ان کے بدنتائج سے ہمیں بچا کیونکہ گناہ ایک زہر ہے۔اور اسکا اثر بھی لازمی ہے۔اور آئیندہ ایسی حفاظت کر کہ گناہ ہم سے سرزد ہی نہ ہوں۔صرف زبانی تکرار سے مطلب حاصل نہیں ہوتا۔۔۔پس چاہئے کہ تو بہ استغفار منتر جنتر کی طرح نہ پڑھو بلکہ ان کے مفہوم اور معانی کو مدنظر رکھ کر تڑپ اور کچی پیاس سے خدا کے حضور دعائیں کرو۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 607608) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا۔(النصر: 4) یہ سورۃ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب زمانہ وفات میں نازل ہوئی تھی اور اس میں اللہ تعالیٰ زور دیکر اپنی نصرت اور تائید اور تکمیل مقاصد دین کی خبر دیتا ہے کہ اب تو اے نبی خدا کی تسبیح کر اور تمجید کر اور خدا سے مغفرت چاہ۔وہ تو اب ہے۔اس موقع پر مغفرت کا ذکر کرنا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اب کام تبلیغ ختم ہو گیا۔خدا سے دعا کر کہ اگر خدمت تبلیغ کے دقائق میں کوئی فرو گذاشت ہوئی ہو تو خدا اس کو بخش دے۔موسیٰ بھی تو ریت میں اپنے قصوروں کو یاد کر کے روتا ہے اور جس کو عیسائیوں نے خدا بنا رکھا ہے کسی نے اس کو کہا کہ اے نیک استاد۔تو اس نے جواب دیا کہ تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے نیک کوئی نہیں مگر خدا۔یہی تمام اولیاء کا شعار رہا ہے۔سب نے استغفار کو اپنا شعار قرار دیا ہے بجز شیطان کے۔(براہین احمدیہ - ر- خ جلد 21 صفحہ 271)