حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 886
886 حقیقی تو به اور استغفار حقیقی تو بہ انسان کو خدا تعالیٰ کا محبوب بنادیتی ہے اور اس سے پاکیزگی اور طہارت کی توفیق ملتی ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقرة: 223) یعنی اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور نیز ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو گناہوں کی کشش سے پاک ہونے والے ہیں۔تو بہ حقیقت میں ایک ایسی شے ہے کہ جب وہ اپنے حقیقی لوازمات کے ساتھ کی جاوے تو اس کے ساتھ ہی انسان کے اندر ایک پاکیزگی کا یج بویا جاتا ہے جو اس کو نیکیوں کا وارث بنا دیتا ہے۔یہی باعث ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ گناہوں سے تو بہ کرنے والا ایسا ہوتا ہے کہ گویا اس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔یعنی تو بہ سے پہلے کے گناہ اس کے معاف ہو جاتے ہیں۔اس وقت سے پہلے جو کچھ بھی اس کے حالات تھے۔اور جو بے جا حرکات اور بے اعتدالیاں اس کے چال چلن میں پائی جاتی تھیں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو معاف کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک عہد صلح باندھا جاتا ہے اور نیا حساب شروع ہوتا ہے۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 432) خوب یاد رکھو کہ لفظوں سے کچھ کام نہیں بنے گا اپنی زبان میں بھی استغفار ہو سکتا ہے کہ خدا پچھلے گناہوں کو معاف کرے اور آئندہ گناہوں سے محفوظ رکھے اور نیکی کی توفیق دے اور یہی حقیقی استغفار ہے کچھ ضرورت نہیں کہ یونہی استغفر الله استغفر اللہ کہتا پھرے اور دل کو خبر تک نہ ہو۔یادرکھو کہ خدا تک وہی بات پہنچتی ہے جو دل سے نکلتی ہے۔اپنی زبان میں ہی خدا سے بہت دعائیں مانگنی چاہئیں۔اس سے دل پر بھی اثر ہوتا ہے۔زبان تو صرف دل کی شہادت دیتی ہے اگر دل میں جوش پیدا ہو اور زبان بھی ساتھ مل جائے تو اچھی بات ہے بغیر دل کے صرف زبانی دعا ئیں عبث ہیں ہاں دل کی دعائیں اصلی دعائیں ہوتی ہیں۔جب قبل از وقت بلا انسان اپنے دل ہی دل میں خدا سے دعائیں مانگتارہتا ہے اور استغفار کرتا رہتا ہے۔تو پھر خداوند رحیم و کریم ہے وہ بلا ٹل جاتی ہے لیکن جب بلا نازل ہو جاتی ہے پھر نہیں ٹلا کرتی۔بلا کے نازل ہونے سے پہلے دعائیں کرتے رہنا چاہئے اور بہت استغفار کرنا چاہئے اس طرح سے خدا بلا کے وقت محفوظ رکھتا ہے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 282)