حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 884 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 884

884 استغفار سے رو بلا ہوتا ہے مَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ (انفال: 34) یہ تمام اقوام کا مذہب ہے کہ صدقہ سے رڈ بلا ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے۔مَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُون - استغفار عذاب سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ہمارے تجربوں کی طرف کوئی جائے تو ایک منذ را مر صبح کو ہو تو شام کو منسوخ ہو جاتا ہے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 212) تمام انبیاء کرام کا اجماعی مسئلہ ہے کہ صدقہ و استغفار سے رڈ بلا ہوتا ہے۔بلا کیا چیز ہے یعنی وہ تکلیف دہ امر جو خدا کے ارادہ میں مقدر ہو چکا ہے۔اب اس بلا کی اطلاع جب کوئی نبی دے تو وہ پیشگوئی بن جاتی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین ہے۔وہ تضرع کرنے والوں پر اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے۔اس لیے ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ وعید کی پیشگوئیاں اٹیل ہیں۔بلکہ وہ ٹل جاتی ہیں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 630) جو لوگ قبل از نزول بلا دعا کرتے ہیں اور استغفار کرتے اور صدقات دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرتا ہے اور عذاب الہی سے ان کو بچالیتا ہے۔میری ان باتوں کو قصہ کے طور پر نہ سنو میں نصح اللہ کہتا ہوں اپنے حالات پر غور کرو۔اور آپ بھی اور اپنے دوستوں کو بھی دعا میں لگ جانے کے لئے کہو۔استغفار عذاب الہی اور مصائب شدیدہ کے لئے سپر کا کام دیتا ہے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُون اس لئے اگر تم چاہتے ہو کہ اس عذاب الہی سے تم محفوظ رہو تو استغفار کثرت سے پڑھو۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 134) فَاعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرُ لِذَنْبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِينَ وَ الْمُؤْمِنَتِ وَاللهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوِيكُمْ۔(محمد: 20) وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ ذَنُب کے معنی (الف) عیسائی بیان کرتے ہیں کہ قرآن شریف انبیاء کو ایسا ہی گنہ گار ٹھہراتا ہے جیسا کہ معمولی آدمیوں کو۔یہ صریحاً غلط ہے۔اگر ایسی بات ہے تو قران شریف ایسے الفاظ کو مثلاً جرم فسق، جناح، اثم وغیرہ انبیاء کے متعلق کیوں استعمال نہیں کرتا حالانکہ ایسے الفاظ اکثر دوسرے لوگوں کی نسبت استعمال ہوئے ہیں۔اگر قرآن شریف ان کو ایسا ہی گنہ گار سمجھتا ہے جیسا کہ دوسرے آدمیوں کو تو کیوں وہ ان کے متعلق ویسے الفاظ استعمال کرنے سے پر ہیز کرتا ہے جو دوسرے گنہ گاروں کے متعلق اکثر استعمال کرتا ہے۔لفظ فسق جرم اثم جناح وغيره قرآن میں قریباً دو سو دفعہ آئے ہیں لیکن باوجود ان کی اس قدر کثرت استعمال کے کسی نبی کی نسبت وہ ایک دفعہ بھی استعمال نہیں کئے گئے۔اگر لفظ ذنب اور جرم وغیرہ میں کوئی فرق نہیں ہے تو کیا وجہ ہے کہ قرآن شریف نے انبیاء کے لئے صرف ذنب کا لفظ چن لیا ہے اور ہمیشہ جرم وغیرہ الفاظ کے استعمال سے پر ہیز کی ہے۔قرآن شریف میں جرم فستق ائم وغیرہ کی نسبت ذنب کا استعمال بہت کم ہے لیکن باوجود اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن شریف دوسرے لفظوں کو چھوڑ کر انبیاء کی نسبت صرف ذنب کا لفظ استعمال کرتا ہے۔قرآن شریف نے صریحاً انبیاء کے متعلق جرم اور ذنب کے لفظ کے استعمال میں تمیز رکھی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب کبھی انبیاء کی نسبت ذنب کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو وہ جرم وغیرہ کا مترادف نہیں ہوتا۔( تفسیر حضرت اقدس جلد 7 صفحه 337 ) ( ریویو آف ریلیجنز جلد 2 نمبر 6 صفحه 240)