حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 877
877 غیروں کی دعا بھی قبول ہوتی ہے دعا وہ ہوتی ہے جو خدا کے پیارے کرتے ہیں ورنہ یوں تو خدا تعالیٰ ہندوؤں کی بھی سنتا ہے اور بعض ان کی مرادیں پوری ہو جاتی ہیں مگر ان کا نام ابتلاء ہے دعا نہیں۔مثلاً اگر خدا سے کوئی روٹی مانگے تو کیا نہ دے گا؟ اس کا وعدہ ہے۔مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا۔(سورة هود : 7) کتے بلی بھی تو اکثر پیٹ پالتے ہیں۔کیڑوں مکوڑوں کو بھی رزق ملتا ہے مگر اِصْطَفَيْنَا۔(فاطر: 33) کا لفظ خاص موقعوں کے لئے ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 682) احمد یوں کو نصیحت ہماری جماعت کو چاہیئے کہ راتوں کورو رو کر دعائیں کریں۔اس کا وعدہ ہے ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمُ (المومن : 61) عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ دعا سے مراد دنیا کی دعا ہے۔وہ دنیا کے کیڑے ہیں اس لئے اس سے پر- نہیں جاسکتے اصل دعا دین ہی کی دعا ہے لیکن یہ مت سمجھو کہ ہم گنہ گار ہیں یہ دعا کیا ہوگی اور ہماری تبدیلی کیسے ہو سکے گی غلطی ہے بعض وقت انسان خطاؤں کے ساتھ ہی ان پر غالب آ سکتا ہے اس لئے کہ اصل فطرت میں پاکیزگی ہے دیکھو پانی خواہ کیسا ہی گرم ہو لیکن جب وہ آگ پر ڈالا جاتا ہے تو وہ بہر حال آگ کو بجھا دیتا ہے اس لئے کہ فطرتا برودت اس میں ہے۔ٹھیک اسی طرح پر انسان کی فطرت میں پاکیزگی ہے۔ہر ایک میں یہ مادہ موجود ہے۔وہ پاکیزگی کہیں نہیں گئی۔اسی طرح تمہاری طبیعتوں میں خواہ کیسے ہی جذبات ہوں رو کر دعا کرو گے تو اللہ تعالیٰ دور کر دے گا۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 133-132) ہجوم مشکلات میں کامیابی حاصل کرنے کا طریق ذیل میں جو نظم درج کی جاتی ہے یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک صاحب شیخ محمد بخش رئیس کڑیا نوالہ ضلع گجرات کو لکھ کر عطا فرمائی تھی جبکہ وہ سخت مالی مشکلات میں مبتلا تھے۔خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا کے طفیل ان کی تکالیف دور کر دیں۔( منقول از اخبار’الفضل‘ 13 جنوری 1928ء) اک نہ اکدن پیش ہو گا تو فنا کے سامنے چل نہیں سکتی کسی کی کچھ قضا کے سامنے چھوڑنی ہو گی تجھے دنیائے فانی ایکدن ہر کوئی مجبور ہے حکم خدا کے سامنے مستقل رہنا ہے لازم اے بشر تجھ کو سدا رنج و غم یاس و الم فکر و بلا کے سامنے بارگاہِ ایزدی سے تو نہ یوں مایوس ہو مشکلیں کیا چیز ہیں مشکل گشا کے سامنے حاجتیں پوری کریں گے کیا تری عاجز بشر کر بیاں سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے چاہئے تجھ کو مٹانا قلب سے نقش دُوئی سر جھکا بس مالک ارض و سما کے سامنے چاہئے نفرت بدی سے اور نیکی سے پیار ایکدن جانا ہے تجھ کو بھی خدا کے سامنے راستی کے سامنے کب جھوٹ پھلتا ہے بھلا قدر کیا پتھر کی لعل بے بہا کے سامنے