حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 878
نویس فصل 878 ایک تو بہ اور استغفار و ان اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِى فَضْلٍ فَضْلَهُ وَ إِنْ تَوَلَّوْا فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرٍ۔(هود:4) طبعا سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مشکل کام کیونکر حل ہو۔اس کا علاج خود ہی بتلایا و ان اسـتغـفـروا ربكم ثم توبوا اليه - (هود: 4) یا درکھو کہ یہ دو چیزیں اس امت کو عطا فرمائی گئی ہیں۔ایک قوت حاصل کرنے کے واسطے۔دوسری حاصل کردہ قوت کو عملی طور پر دکھانے کے لئے۔قوت حاصل کرنے کے واسطے استغفار ہے جس کو دوسرے لفظوں میں استمداد اور استعانت بھی کہتے ہیں۔صوفیوں نے لکھا ہے کہ جیسے ورزش کرنے سے مثلاً مگدروں اور موگریوں کو اٹھانے اور پھیرنے سے جسمانی قوت اور طاقت بڑھتی ہے۔اسی طرح روحانی مگدر استغفار ہے۔اس کے ساتھ روح کو ایک قوت ملتی ہے اور دل میں استقامت پیدا ہوتی ہے۔جسے قوت لینی مطلوب ہو وہ استغفار کرے۔غفر ڈھانکنے اور دبانے کو کہتے ہیں۔استغفار سے انسان ان جذبات اور خیالات کو ڈھانپنے اور دبانے کی کوشش کرتا ہے۔جو خدا تعالیٰ سے روکتے ہیں۔پس استغفار کے یہی معنے ہیں کہ زہریلے مواد جو حملہ کر کے انسان کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔ان پر غالب آ وے اور خدا تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری کی راہ کی روکوں سے بچ کر انہیں عملی رنگ میں دکھائے۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں دو قسم کے مادے رکھے ہیں۔ایک سمی مادہ ہے۔جس کا موکل شیطان ہے اور دوسرا تریاقی مادہ ہے۔جب انسان تکبر کرتا ہے اور اپنے تئیں کچھ سمجھتا ہے اور تریاقی چشمہ سے مدد نہیں لیتا۔تو سمی قوت غالب آجاتی ہے لیکن جب اپنے تئیں ذلیل و حقیر سمجھتا ہے اور اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک چشمہ پیدا ہو جاتا ہے۔جس سے اس کی روح گداز ہو کر بہن نکلتی ہے اور یہی استغفار کے معنی ہیں۔یعنی یہ کہ اس قوت کو پا کر زہریلے مواد پر غالب آجاوے۔غرض اس کے معنی یہ ہیں کہ عبادت پر یوں قائم رہو۔اول رسول کی اطاعت کرو۔دوسرے ہر وقت خدا سے مدد چاہو۔ہاں پہلے اپنے رب سے مدد چا ہو۔جب قوت مل گئی تو تُوبُوا إِلَيْهِ یعنی خدا کی طرف رجوع کرو۔استغفار اورتو به دو چیزیں ہیں۔ایک وجہ سے استغفار کوتو بہ پر تقدم ہے کیونکہ استغفار مدداور قوت ہے جو خدا سے حاصل کی جاتی ہے اور تو بہ اپنے قدموں پر کھڑا ہوتا ہے۔عادۃ اللہ یہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے مدد چاہے گا تو خدا تعالیٰ ایک قوت دے دے گا اور پھر اس قوت کے بعد انسان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جاوے گا اور نیکیوں کے کرنے کے لیے اس میں ایک قوت پیدا ہو جاوے گی جس کا نام تُوبُوا إِلَيْهِ ہے۔اس لیے طبعی طور پر بھی یہی ترتیب ہے۔غرض اس میں ایک طریق ہے جو سالکوں کے لئے رکھا ہے کہ سالک ہر حالت میں خدا تعالیٰ سے استمداد