حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 706
706 اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنُ مَّثَلُهُ فِى الظُّلُمَتِ لَيْسَ بِخَارِجِ مِنْهَا كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْكَفِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔(الانعام:123) کیا وہ شخص جو مردہ تھا اور ہم نے اس کو زندہ کیا اور ہم نے اس کو ایک نور عطا کیا جس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے یعنی اس نور کی برکات لوگوں کو معلوم ہوتی ہیں کیا ایسا آدمی اس آدمی کی مانند ہو سکتا ہے جو سراسر تاریکی میں اسیر ہے اور اس سے نکل نہیں سکتا۔نور اور حیات سے مراد روح القدس ہے کیونکہ اس سے ظلمت دور ہوتی ہے اور وہ دلوں کو زندہ کرتا ہے۔اسی لیے اس کا نام روح القدس ہے یعنی پاکی کی روح جس کے داخل ہونے سے ایک پاک زندگی حاصل ہوتی ہے۔آئینہ کمالات اسلام - ر - خ - جلد 5 صفحہ 99) قرآن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نور اللہ اور سراج منیر ہے وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَ سِرَاجًا مُّبِيرًا۔(الاحزاب:47) انبیاء منجمله سلسله متفاوتهہ فطرت انسانی کے وہ افراد عالیہ ہیں جن کو اس کثرت اور کمال سے نور باطنی عطا ہو ا ہے کہ گویا وہ نور مجسم ہو گئے ہیں اسی جہت سے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نور اور سراج منیر رکھا ہے جیسا فرمایا ہے قَدْ جَاءَ كُمْ مِنَ اللهِ نُورٌ وَّ كِتَابٌ مُّبِينٌ الجزو نمبر 6 وَدَاعِيًا إِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَ سِرَاجًا مُّبِيرًا الجزو نمبر 22 یہی حکمت ہے کہ نو روحی جس کے لئے نور فطرتی کا کامل اور عظیم الشان ہونا شرط ہے صرف انبیاء کو ملا اور انہیں سے مخصوص ہو ا۔( براھین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 196 حاشیہ ) ایک گاؤں میں سو گھر تھے اور صرف ایک گھر میں چراغ جلتا تھا تب جب لوگوں کو معلوم ہوا تو وہ اپنے اپنے چراغ لے کر آئے اور سب نے اس چراغ سے اپنے چراغ روشن کئے۔اسی طرح ایک روشنی سے کثرت ہوسکتی ہے۔اسی طرف اللہ تعالیٰ اشارہ کر کے فرماتا ہے وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَ سِرَاجًا مُّبِيرًا۔( براھین احمدیہ۔رخ۔جلد 21 صفحہ 425)