حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 707
707 فہیم قرآن کے روحانی لوازمات لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ۔(الواقعة : 80) دینی علم اور پاک معارف کے سمجھنے اور حاصل کرنے کے لئے پہلے چی پاکیزگی کا حاصل کر لینا اور ناپاکی کی راہوں کا چھوڑ دینا از بس ضروری ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ یعنی خدا کی پاک کتاب کے اسرار کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو پاک دل ہیں اور پاک فطرت اور پاک عمل رکھتے ہیں۔دنیوی چالاکیوں سے آسمانی علم ہرگز حاصل نہیں ہو سکتے۔ست بچن۔رخ جلد 10 صفحہ 126) راز قرآن را کجا فهمد کسے بہر نورے نور می باید بسے تب تک کوئی قرآنی اسرار کو کیونکر سمجھ سکتا ہے نور کے سمجھنے کے لئے بہت سانور باطن ہونا چاہئے۔ایں نہ من قرآں ہمیں فرموده است اندر و شرط تطهر بوده است یہ میری بات نہیں بلکہ قرآن نے بھی یہی فرمایا ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لئے پاک ہونے کی شرط ہے۔گر بقرآں ہر کسے را راه بود پس چرا شرط تطهر را فزود اگر ہر شخص قرآن کو ( خود ہی سمجھ سکتا تو خدا نے تطہیر کی شرط کیوں زائد لگائی۔نور را داند کسے کو نور شد و از حجاب سرکشی با دور شد نور کو وہی شخص سمجھتا ہے جو خود نور ہو گیا ہو۔اور سرکشی کے حجابوں سے دُور ہو گیا ہو۔(در مشین فارسی متر جم صفحه 227-226) (سراج منیر۔ر۔خ۔جلد 12 صفحہ 96)