حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 705
705 بے سایہ درخت یعنی ناقص دین اِنْطَلِقُوا إِلَى مَا كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِبُونَ انْطَلِقُوا إِلَى ظِلَّ ذِي ثَلَثِ شُعَبِ لَّا ظَلِيلٍ وَّلَا يُغْنِى مِنَ اللَّهَبِ (المرسلت: 30تا32) اس جگہ یاد رکھنا چاہیئے کہ خدا تعالیٰ اپنی طرف سے بندہ پر کوئی مصیبت نہیں ڈالتا بلکہ وہ انسان کے لئے اپنے بُرے کام اس کے آگے رکھ دیتا ہے۔پھر اس اپنی سنت کے اظہار میں خدا تعالیٰ ایک اور جگہ فرماتا ہے۔انْطَلِقُوا إِلَى ظِلَّ ذِى ثَلكِ شُعَبِ۔لَّا ظَلِيْلٍ وَّلَا يُغْنِى مِنَ اللَّهَب۔یعنی اے بد کارو گرا ہو! سہ گوشہ سایہ کی طرف چلو جس کی تین شاخیں ہیں جو سایہ کا کام نہیں دے سکتیں اور نہ گرمی سے بچا سکتی ہیں۔اس آیت میں تین شاخوں سے مراد قوت سبھی اور بہیمی اور وہی ہے جو لوگ ان تینوں قوتوں کو اخلاقی رنگ میں نہیں لاتے اور ان کی تعدیل نہیں کرتے ان کی یہ قوتیں قیامت میں اس طرح پر نمودار کی جائیں گی کہ گویا تین شاخیں بغیر چوں کے کھڑی ہیں اور گرمی سے بچا نہیں سکتیں اور وہ گرمی سے جلیں گے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔رخ۔جلد 10 صفحہ 410) نذیر لفظ کی علامت عذاب کا نازل ہونا ہے فَقَدْ جَاءَ كُمُ بَشِيرٌ وَّ نَذِيرٌ وَ اللهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔(المائده: 20) نذیر کا لفظ اسی مرسل کے لیے خدا تعالیٰ استعمال کرتا ہے جس کی تائید میں یہ مقدر ہوتا ہے کہ اس کے منکروں پر کوئی عذاب نازل ہوگا کیونکہ نذیرڈرانے والے کو کہتے ہیں اور وہی نبی ڈرانے والا کہلاتا ہے جس کے وقت میں کوئی عذاب نازل ہونا مقدر ہوتا ہے پس آج سے چھبیس برس پہلے جو براہین احمدیہ میں میرا نام نذیر رکھا گیا اس میں صاف اشارہ تھا کہ میرے وقت میں عذاب نازل ہوگا۔(حقیقۃ الوحی۔ر۔خ۔جلد 22 صفحہ 486) قرآن میں روح القدس کا نام نور ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ سَيَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ۔(الانفال: 30) روح القدس کے بارہ میں جو قرآن کریم میں آیات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ کے لیے کامل مومنوں کو روح القدس دیا جاتا ہے منجملہ ان کے ایک یہ آیت ہے یعنی اے وے لوگو جو ایمان لائے ہوا گر تم تقویٰ اختیار کرو اور اللہ جل شانہ سے ڈرتے رہو تو خدا تعالیٰ تمہیں وہ چیز عطا کرے گا (یعنی روح القدس ) جس کے ساتھ تم غیروں سے امتیاز کلی پیدا کرلو گے اور تمہارے لیے ایک نور مقرر کر دیگا (یعنی روح القدس) جو تمہارے ساتھ ساتھ چلے گا۔قرآن کریم میں روح القدس کا نام نور ہے۔آئینہ کمالات اسلام۔رخ۔جلد 5 صفحہ 97-98)