حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 683 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 683

683 قرآنی بہشت کی حقیقت ہمارا یہ ایمان کے کہ کوئی فلسفہ اور سائنس خواہ وہ اپنی اس موجودہ حالت سے ہزار درجہ ترقی کر جاوے مگر قرآن ایک ایسی کامل کتاب ہے کہ یہ نئے علوم بھی بھی اس پر غالب نہیں آ سکتے۔مگر اس شخص کی نسبت ہم کیونکر ایسی رائے قائم کر سکتے ہیں کہ جس کی نسبت ہمیں معلوم ہے کہ اس کو علوم قرآن سے مس ہی نہیں اور اس نے اس طرف کبھی توجہ ہی نہیں کی بلکہ بھی ایک سطر بھی قرآن شریف کی غور و تدبر کی نظر سے نہیں پڑھی۔مثال کے طور پر قرآن کی تعلیم روحانی کا ایک فلسفہ بیان ہوا ہے جو بعد الموت اعمال کے نتیجہ میں انسان کو بہشت کے رنگ میں ملے گا جس کے نیچے نہریں چلتی ہوں گی۔بظاہر یہ ایک قصہ ہے مگر قصہ نہیں گو کہ قصہ کے رنگ میں آ گیا ہے۔اس کی حقیقت یہی ہے کہ اس وقت کے لوگ علوم روحانی کے نہ جاننے کی وجہ سے نادان بچوں کی طرح تھے۔ایسے باریک اور روحانی علوم کے سمجھانے کے واسطے ان کے مناسب حال استعاروں سے کام لینا اور مثالوں کے ذریعہ سے اصل حقیقت کو ان کے ذہن نشین کرنا ضروری تھا اسی واسطے قرآن شریف نے بہشت کی حقیقت سمجھانے کے واسطے اس طریق کو اختیار کیا اور پھر یہ بھی فرمایا کہ مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ (محمد : 16) یہ ایک مثال ہے نہ کہ حقیقت قرآن شریف کے ان الفاظ سے صاف عیاں ہے کہ وہ جنت کوئی اور ہی چیز ہے اور حدیث میں صاف یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ ان ظاہری جسمانی دنیوی امور پر نعماء جنت کا قیاس نہ کیا جاوے کیونکہ وہ ایسی چیز ہے کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھی نہ کسی کان نے سنی وغیرہ۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 648) آسمان کے متعد د معانی آسمان۔سماء إذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتُ۔(الانشقاق:2) جس وقت آسمان پھٹ جاوے۔یہ مراد نہیں ہے کہ در حقیقت اس وقت آسمان پھٹ جائے گا یا اس کی قوتیں سست ہو جائیں گی بلکہ مدعا یہ ہے کہ جیسے پھٹی ہوئی چیز بیکار ہو جاتی ہے ایسا ہی آسمان بھی بیکا رسا ہو جائے گا۔آسمان سے فیوض نازل نہیں ہوں گے اور دنیا ظلمت اور تاریکی سے بھر جائے گی۔شہادت القرآن۔۔۔خ۔جلد 6 صفحہ 319) قرآن شریف میں سماء کا لفظ نہ صرف آسمان پر بولا جاتا ہے جیسا کہ عوام کا خیال ہے بلکہ کئی معنوں پر سماء کا لفظ قرآن شریف میں آیا ہے۔چنانچہ مینہ کا نام بھی قرآن شریف میں سماء ہے اور اہل عرب مینہ کو سماء کہتے ہیں اور کتب تعبیر میں سماء سے مراد بادشاہ بھی ہوتا ہے اور آسمان کے پھٹنے سے بدعتیں اور ضلالتیں اور ہر ایک قسم کا جو را اور ظلم مراد لیا جاتا ہے اور نیز ہر قسم کے فتنوں کا ظہور مراد لیا جاتا ہے۔کتاب تعطیر الا نام میں لکھا ہے فَإِنْ رَأَى السَّمَاءَ انْشَقَّتْ دَلَّ عَلَى الْبِدْعَةِ وَالضَّلَالَةِ۔دیکھو صفحہ 305 تعطیر الانام۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ۔جلد 17 صفحہ 242 حاشیہ )