حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 682 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 682

682 گی۔یعنی زمینی علوم اور زمینی مکر اور زمینی چالاکیاں اور زمینی کمالات جو کچھ انسان کی فطرت میں مودع ہیں سب کی سب ظہور میں آجائیں گی اور نیز زمین جس پر انسان رہتے ہیں اپنے تمام خواص ظاہر کر دے گی اور علم طبعی اور فلاحت کے ذریعہ سے بہت سی خاصیتیں اس کی معلوم ہو جائیں گی اور کا نیں نمودار ہوں گی اور کاشت کاری کی کثرت ہو جائے گی۔غرض زمین زرخیز ہو جائے گی اور انواع و اقسام کی کھلیں ایجاد ہوں گی یہاں تک کہ انسان کہے گا کہ یہ کیا ماجرا ہے اور یہ نئے نئے علوم اور نئے نئے فنون اور نئی نئی صنعتیں کیونکر ظہور میں آتی جاتی ہیں تب زمین یعنی انسانوں کے دل زبان حال سے اپنے قصے سنائیں گے کہ یہ نئی باتیں جو ظہور میں آ رہی ہیں یہ ہماری طرف سے نہیں یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک قسم کی وحی ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ انسان اپنی کوششوں سے اس قدر علوم عجیبہ پیدا کر سکے۔اور یادر ہے کہ ان آیات کے ساتھ جو قرآن کریم میں بعض دوسری آیات جو آخرت کے متعلق ہیں شامل کی گئی ہیں وہ درحقیقت اسی سنت اللہ کے موافق شامل فرمائی گئی ہیں جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے ورنہ اس میں کچھ شک نہیں کہ حقیقی اور مقدم معنے ان آیات کے یہی ہیں جو ہم نے بیان کئے اور اس پر قرینہ جو نہایت قوی اور فیصلہ کرنے والا ہے یہ ہے کہ اگر ان آیات کے حسب ظاہر معنے کئے جائیں تو ایک فساد عظیم لازم آتا ہے۔یعنی اگر ہم اس طور سے معنی کریں کہ کسی وقت با وجود قائم رہنے اس آبادی کے جو دنیا میں موجود ہے ایسے سخت زلزلے زمین پر آئیں گے جو تمام زمین کے اوپر کا طبقہ نیچے اور نیچے کا اوپر ہو جائے گا تو یہ بالکل غیر ممکن اور ممتمعات میں سے ہے۔آیت موصوفہ میں صاف لکھا ہے کہ انسان کہیں گے کہ زمین کو کیا ہو گیا۔پھر اگر حقیقتا یہی بات سچ ہے کہ زمین نہایت شدید زلزلوں کے ساتھ زیروز بر ہو جائے گی تو انسان کہاں ہوگا جو زمین سے سوال کرے گا تو وہ پہلے ہی زلزلہ کے ساتھ زاویہ عدم میں مخفی ہو جائے گا۔علوم حسیہ کا تو کسی طرح انکار نہیں ہوسکتا۔پس ایسے معنے کرنا جو بداہت باطل اور قرائن موجودہ کے مخالف ہوں گو یا اسلام سے بنی کرانا اور مخالفین کو اعتراض کے لئے موقع دینا ہے۔پس واقعی اور حقیقی معنے یہی ہیں جو ابھی ہم نے بیان کئے۔(شہادت القرآن۔ر-خ- جلد 6 صفحہ 314-316) عرش کی حقیقت الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى۔(طه: 6) خدا رحمان ہے جس نے عرش پر قرار پکڑا۔اس قرار پکڑنے سے یہ مطلب ہے کہ اگر چہ اس نے انسان کو پیدا کر کے بہت سا قرب اپنا اس کو دیا مگر یہ تمام تجلیات مختص الزمان ہیں یعنی تمام شیمی تجلیات اس کی کسی خاص وقت میں ہیں جو پہلے نہیں تھیں مگر از لی طور پر قرارگاہ خدا تعالیٰ کی عرش ہے جو تنزیہ کا مقام ہے کیونکہ جو فانی چیزوں سے تعلق کر کے تشبیہ کا مقام پیدا ہوتا ہے وہ خدا کی قرار گاہ نہیں کہلا سکتا وجہ یہ کہ وہ معرض زوال میں ہے اور ہر ایک وقت میں زوال اس کے سر پر ہے بلکہ خدا کی قرارگاہ وہ مقام ہے جو فنا اور زوال سے پاک ہے پس وہ مقام عرش ہے۔چشمہ معرفت - ر- خ - جلد 23 صفحہ 277-278)