حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 684 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 684

684 قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے اور حال کی تحقیقا تیں بھی اس کی مصدق ہیں کہ عالم کبیر بھی اپنے کمال خلقت کے وقت تک ایک گٹھڑی کی طرح تھا جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے اَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَواتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيّ (الانبياء: 31) الجزونمبر 17 یعنی فرماتا ہے کہ کیا کافروں نے آسمان اور زمین کو نہیں دیکھا کہ گٹھڑی کی طرح آپس میں بندھے ہوئے تھے اور ہم نے ان کو کھول دیا۔سو کافروں نے تو آسمان اور زمین بنتا نہیں دیکھا اور نہ ان کی گٹھڑی دیکھی لیکن اس جگہ روحانی آسمان اور روحانی زمین کی طرف اشارہ ہے جس کی گٹھڑی کفار عرب کے روبرو کھل گئی اور فیضان سماوی زمین پر جاری ہو گئے۔( آئینہ کمالات اسلام - ر- خ - جلد 5 صفحہ 190-193 حاشیه در حاشیه ) مقام ابراہیم کے معانی وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَ اَمْنًا ، وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِمَ ط مُصَلَّى، وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِمَ وَ إِسْمَعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَ الْعَكِفِينَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُودِ۔(البقرة: 126) وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِمَ مُصَلَّی اور ابراہیم کے مقام سے نماز کی جگہ پکڑو۔اس جگہ مقام ابراہیم سے اخلاق مرضیۃ ومعاملہ باللہ مراد ہے یعنی محبت الہیہ اور تفویض اور رضا اور وفا یہی حقیقی مقام ابراہیم کا ہے جو امت محمدیہ کو بطور تبعیت و وراثت عطا ہوتا ہے اور جو شخص قلب ابراہیم پر مخلوق ہے۔اس کی اتباع بھی اسی میں ہے۔براهین احمدیہ - ر- خ - جلد 1 صفحہ 608 حاشیہ ) اور یہ جوفرمایا کہ وَاتَّخَذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِمَ مُصَلَّى يه قرآن شریف کی آیت ہے اور اس مقام میں اس کے یہ معنے ہیں کہ یہ ابراھیم جو بھیجا گیا تم اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس کی طرز پر بجالا ؤ۔اور ہر ایک امر میں اس کے نمونہ پر اپنے تئیں بناؤ۔اور جیسا کہ آیت و مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد (القف:6) میں یہ اشارہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخر زمانہ میں ایک مظہر ظاہر ہوگا۔گویا وہ اس کا ایک ہاتھ ہو گا جس کا نام آسمان پر احمد ہوگا اور وہ حضرت مسیح کے رنگ میں جمالی طور پر دین کو پھیلائیگا۔ایسا ہی یہ آیت وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْراهِمَ مُصَلَّی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخر زمانہ میں ایک ابراهیم پیدا ہو گا ور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائیگا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔( اربعین۔۔۔خ۔جلد 17 صفحہ 420,421)