حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 633
633 زیورات کی نسبت جو آپ نے دریافت کیا ہے۔یہ اختلافی مسئلہ ہے۔مگر اکثر علماء اس طرف گئے ہیں کہ جوزیور مستعمل ہو اس کی زکوۃ نہیں ہے۔مگر بہتر ہے کہ دوسرے کو عاریتاً کبھی دیدیا کریں مثلاً دو تین روز کے لیے کسی عورت کو اگر عاریتا پہننے کے لیے دیدیا جائے تو پھر بالا تفاق ساقط ہو جاتی ہے۔( مکتوبات جلد پنجم صفحہ 55 مکتوب نمبر 13/5 بنام منشی حبیب الرحمان صاحب) عزیز و! یہ دین کے لیے اور دین کی اغراض کے لیے خدمت کا وقت ہے اس وقت کو غنیمت سمجھو کہ پھر کبھی ہاتھ نہیں آئے گا چاہیئے کہ زکوۃ دینے والا اسی جگہ اپنی زکوۃ بھیجے اور ہر ایک شخص فضولیوں سے اپنے تئیں بچاوے اور اس راہ میں وہ روپیہ لگاوے اور بہر حال صدق دکھاوے تافضل اور روح القدس کا انعام پاوے کیونکہ یہ انعام ان لوگوں کے لیے تیار ہے جو اس سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔(کشتی نوح۔ر۔خ۔جلد 19 صفحہ 83) اگر میری جماعت میں ایسے احباب ہوں جو ان پر بوجہ املاک و اموال وزیورات وغیرہ کے زکوۃ فرض ہو تو ان کو سمجھنا چاہیئے کہ اس وقت دین اسلام جیسا غریب اور یتیم اور بے کس کوئی بھی نہیں اور زکوۃ نہ دینے میں جس قدر تہدید شرع وارد ہے وہ بھی ظاہر ہے۔اور عنقریب ہے جو منکر زکوۃ کا فر ہو جائے۔پس فرض عین ہے۔جواسی راہ میں اعانت اسلام میں زکوۃ دی جاوے۔زکوۃ میں کتابیں خریدی جائیں اور مفت تقسیم کی جائیں۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه (325)