حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 632 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 632

632 چوتھی فصل زكوة وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَاتُوا الزَّكَوةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّكِعِينَ۔(البقرة:44) ہر ایک جوز کوۃ کے لایق ہے وہ زکوۃ دے۔(کشتی نوح۔ر۔خ۔جلد 19 صفحہ 15) حقیقی زکوة بہت سے لوگ زکوۃ دیتے ہیں۔مگر وہ اتنا بھی نہیں سوچتے اور سمجھتے کہ یہ کس کی زکوۃ ہے اگر کتے کو ذبح کر دیا جاوے یا سور کو ذبح کر ڈالو تو وہ صرف ذبح کرنے سے حلال نہیں ہو جائے گا۔زکوۃ تزکیہ سے نکلی ہے مال کو پاک کرو۔اور پھر اس میں سے زکوۃ دو۔جو اس میں سے دیتا ہے۔اس کا صدق قائم ہے لیکن جو حلال وحرام کی تمیز نہیں کرتا وہ اس کے اصل مفہوم سے دور پڑا ہوا ہے اس قسم کی غلطیوں سے دست بردار ہونا چاہیئے اور ان ارکان کی حقیقت کو بخوبی سمجھ لینا چاہیئے تب یہ ارکان نجات دیتے ہیں ورنہ نہیں اور انسان کہیں کا کہیں چلا جاتا ہے یقینا سمجھوکہ فخر کرنے کی کوئی چیز نہیں ہے اور خدا تعالیٰ کا کوئی نفسی یا آفاقی شریک نہ ٹھیراو اور اعمال صالح بجالاؤ۔مال سے محبت نہ کرو۔اموال برزکوة ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 103) ایک صاحب نے دریافت کی کہ تجارت کا مال جو ہے جس میں بہت سا حصہ خریداروں کی طرف ہوتا ہے اور اگراہی میں پڑا ہوتا ہے اس پر زکوۃ ہے یا نہیں۔فرمایا جو مال معلق ہے اس پر زکوۃ نہیں جب تک کہ اپنے قبضہ میں نہ آ جائے لیکن تاجر کو چاہیئے کہ حیلہ بہانے سے زکوۃ کو نہ ٹال دے۔آخر اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اخراجات بھی تو اسی مال میں سے برداشت کرتا ہے۔تقویٰ کے ساتھ اپنے مال موجودہ اور معلق پر نگاہ ڈالے اور مناسب زکوۃ دیکر خدا تعالیٰ کو خوش کرتا رہے۔بعض لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ بھی حیلے بہانے کرتے ہیں۔یہ درست نہیں ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ جو روپیہ قرض کسی کو دیا گیا ہے اس پر زکوۃ ہے؟ فرمایا۔”نہیں“ زیورات پر زکوة ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 234) ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 153) جوز یور استعمال میں آتا ہے اور مثلاً کوئی بیاہ شادی پر مانگ کر لے جاتا ہے تو دید یا جاوے وہ زکوۃ سے ے ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 206 )