حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 634 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 634

634 پانچویں فصل حج فيه ايتٌ بَيْنَتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَ مَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا وَلِلَّهُ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَ مَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِيْنَ۔(ال عمران :98) حج کی عبادت کی حکمت ( ملفوظات جلد دوم صفحه 225) اسلام نے محبت کی حالت کے اظہار کے لیے حج رکھا ہے خوف کے جس قدر ارکان ہیں وہ نماز کے ارکان سے بخوبی واضح ہیں کہ کس قدر تذلل اور اقرار عبودیت اس میں موجود ہے اور حج میں محبت کے سارے ارکان پائے جاتے ہیں بعض وقت شدت محبت میں کپڑے کی بھی حاجت نہیں رہتی۔عشق بھی ایک جنون ہوتا ہے کپڑوں کو سنوار کر رکھنا یہ عشق میں نہیں رہتا۔سیالکوٹ میں ایک عورت ایک درزی پر عاشق تھی اسے بہتیرا پکڑ کر رکھتے تھے وہ کپڑے پھاڑ کر چلی آتی تھی غرض یہ نمونہ جو انتہائے محبت کا لباس میں ہوتا ہے وہ حج میں موجود ہے۔سرمنڈا یا جاتا ہے۔دوڑتے ہیں محبت کا بوسہ رہ گیا وہ بھی ہے جو خدا کی ساری شریعتوں میں تصویری زبان میں چلا آیا ہے پھر قربانی میں بھی کمال عشق دکھایا ہے۔جسمانی افعال کا روح پر اثر پڑتا ہے اور روحانی افعال کا جسم پر اثر پڑتا ہے۔پس ایسا ہی عبادت کی دوسری قسم میں بھی جو محبت اور ایثار ہے انہیں تاثیرات کا جسم اور روح میں عوض معاوضہ ہے۔محبت کے عالم میں انسانی روح ہر وقت اپنے محبوب کے گرد گھومتی ہے اور اس کے آستانہ کو بوسہ دیتی ہے ایسا ہی خانہ کعبہ جسمانی طور پر محبان صادق کے لیے ایک نمونہ دیا گیا ہے اور خدا نے فرمایا کہ دیکھو یہ میرا گھر ہے اور یہ حجر اسود میرے آستانہ کا پتھر ہے اور ایسا حکم اس لیے دیا کہ تا انسان جسمانی طور پر اپنے ولولہ عشق اور محبت کو ظاہر کرے۔سو حج کرنے والے حج کے مقام میں جسمانی طور پر اس گھر کے گردگھومتے ہیں ایسی صورتیں بنا کر کہ گویا خدا کی محبت میں دیوانہ اور مست ہیں زینت دور کر دیتے ہیں سرمنڈوا دیتے ہیں اور مجز وبوں کی شکل بنا کر اس کے گھر کے گرد عاشقانہ طواف کرتے ہیں اور اس پتھر کو خدا کے آستانہ کا پتھر تصور کر کے بوسہ دیتے ہیں اور یہ جسمانی ولولہ روحانی تپش اور محبت کو پیدا کر دیتا ہے اور جسم اس گھر کے گرد طواف کرتا ہے اور سنگ آستانہ کو چومتا ہے اور روح اس وقت محبوب حقیقی کے گرد طواف کرتی ہے اور اس کے روحانی آستانہ کو چومتا ہے اور اس طریق میں کوئی شرک نہیں۔ایک دوست ایک دوست جانی کا خط پا کر بھی اس کو چومتا ہے کوئی مسلمان خانہ کعبہ کی پرستش نہیں کرتا اور نہ احجر اسود سے مرادیں مانگتا ہے بلکہ صرف خدا کا قرار دادہ ایک جسمانی نمونہ سمجھا جاتا ہے ویس۔جس طرح ہم زمین پر سجدہ کرتے ہیں مگر وہ سجدہ زمین کے لیے نہیں ایسا ہی ہم حجر اسود کو بوسہ دیتے ہیں مگر وہ بوسہ اس پتھر کے لیے نہیں پتھر تو پتھر ہے جو نہ کسی کو نفع دے سکتا ہے نہ نقصان مگر اس محبوب کے ہاتھ کا ہے۔جس نے اس کو اپنے آستانہ کونمونہ ٹھیرایا۔(چشمہ معرفت-ر-خ- جلد 23 صفحہ 101-100)