حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 552 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 552

552 تعدد ازدواج وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَمَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلكَ وَ رُبعَ ۚ فَإِنْ خِفْتُمُ الَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا۔(النساء:4) اسلام سے پہلے اکثر قوموں میں کثرت ازدواج کی سینکڑوں اور ہزاروں تک نوبت پہنچ گئی تھی اور اسلام نے تعدد ازدواج کو کم کیا ہے۔نہ زیادہ بلکہ یہ قرآن میں ہی ایک فضیلت خاص ہے کہ اس نے ازدواج کی بیدی اور بے قیدی کو رد کر دیا ہے۔اور کیا وہ اسرائیلی قوم کے مقدس نبی جنہوں نے سوسو بیوی کی بلکہ بعض نے سات سو تک نوبت پہنچائی وہ اخیر عمر تک حرامکاری میں مبتلا ر ہے۔اور کیا ان کی اولا د جن میں سے بعض راست باز بلکہ نبی بھی تھے ناجائز طریق کی اولاد سمجھی جاتی ہے۔(حجتہ الاسلام۔ر۔خ۔جلد 6 صفحہ 47) کثرت ازدواج کے متعلق صاف الفاظ قرآن کریم میں دو دو تین تین چار چار کر کے ہی آ رہے ہیں مگر اسی آیت میں اعتدال کی بھی ہدایت ہے۔اگر اعتدال نہ ہو سکے اور محبت ایک طرف زیادہ ہو جائے یا آمدنی کم ہو اور یا قوائے رجولیت ہی کمزور ہوں تو پھر ایک سے تجاوز کرنا نہیں چاہیے۔ہمارے نزدیک یہی بہتر ہے کہ انسان اپنے 13- تئیں ابتلاء میں نہ ڈالئے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ۔(البقره : 191) غرض اگر حلال کو حلال سمجھ کر بیویوں کا ہی بندہ ہو جائے تو بھی غلطی کرتا ہے۔ہر ایک شخص اللہ تعالیٰ کی منشاء کو نہیں سمجھ سکتا۔اس کا یہ منشاء نہیں کہ بالکل زن مرید ہو کر نفس پرست ہی ہو جا ؤ اور وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ رہبانیت اختیار کرو بلکہ اعتدال سے کام لو اور اپنے تئیں بے جا کاروائیوں میں نہ ڈالو۔انبیاء علیہم السلام کے لیے کوئی نہ کوئی تخصیص اگر اللہ تعالی کر دیتا ہے تو یہ کوتاہ اندیش لوگوں کی ابلہ فریبی اور غلطی ہے کہ اس پر اعتراض کرتے ہیں۔دیکھو توریت میں کاہنوں کے فرقہ کے ساتھ خاص مراعات ملحوظ رکھی گئی ہیں۔اور ہندوؤں کے برہمنوں کے لیے خاص رعائتیں ہیں۔پس بینادانی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی کی تخصیص پر اعتراض کیا جاوے۔ان کا نبی ہونا ہی سب سے بڑی خصوصیت ہے جو اور لوگوں میں موجود نہیں۔تعد دازواج میں عدل ( ملفوظات جلد اوّل صفحه 155-154) ایک احمدی صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی کہ تعدد ازواج میں جو عدل کا حکم ہے کیا اس سے یہی مراد ہے کہ مرد بحیثیت الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (النساء : 35 ) کے خود ایک حاکم عادل کی طرح جس بیوی کو سلوک کے قابل پاوے ویسا سلوک اس سے کرے یا کچھ اور معنے ہیں۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ محبت کو قطع نظر بالائے طاق رکھ کر عملی طور پر سب بیویوں کو برابر رکھنا چاہیئے مثلاً پار چہ جات - خرچ خوراک۔معاشرت حتی کہ مباشرت میں بھی مساوات برتے۔یہ حقوق اس قسم کے ہیں کہ اگر انسان کو پورے طور پر معلوم ہوں تو بجائے بیاہ کے وہ ہمیشہ رنڈ وار ہنا پسند کرے۔خدا تعالیٰ کی